ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


چہلم امام حسین علیہ السلام اور ہماری ذمہ داریاں

چاپ
چہلم

چہلم امام حسین علیہ السلام اور ہماری ذمہ داریاں

 نواسہ رسول امام حسین علیہم السلام کی مظلومانہ شہادت کے خون کی سرخی نے واقعہ کربلا کے دامن پر وہ نقش چھوڑے ہیں ،کہ جن کی سرخی نے تاریخ کی ہر جنگ کی رونق کو چھین کر لوگوں کے ذہنوں سے ہر معرکہ کو محو کردیا اور اس وقت جب بھی کسی مظلوم کا تذکرہ ہوتاہے تو مظلومیت حسین ذہنوں کے سامنے دکھائی دینے لگتی ہے یہاں تک کہ نواسہ رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی مظلومانہ شہادت نے انسانیت کے دل ودماغ پر ایسا اثر چھوڑا ہے کہ مورخ وشاعر کا قلم یہ لکھنے پر مجبور ہے حسینیت زندہ باد یزیدیت مردہ باد اس لئے کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے اصحاب یہاں تک کہ اپنی اولاد کی قربانی پیش کرکے کلمہ توحید کو بچاتے ہوئے انسانیت کو نجات دی جسے خواجہ معین الدین چشتی  نے اپنے لفظوں میں یوں بیان کیا :

 شاہ است حسین بادشاہ است حسین ،   دین است حسین دین پناہ است حسین

سرداد نداد دست دردست یزید    ۔ حقہ کہ بناء لاالہ است حسین

واقعہ کربلا در حقیقت حیات جاودانی کا نام ہے ، واقعہ کربلا تلوار پر خون کی کامیابی کا نام ہے واقعہ کربلا ظلم کے خلاف ایک مستحکم تحریک کا نام ہے ، واقعہ کربلا جہالتوں پر علم کے غلے کا نام ہے واقعہ کربلا ظلم اور ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہے ، واقعہ کربلا خواب غفلت سے بیدار کرنے کا نام ہے ، واقعہ کربلاتوحید کی سربلندی اور کفر ونفاق کی نابودی کا نام ہے ۔

اس عظیم واقعہ نے دنیا کو متزلزل اور بڑی بڑی چٹانوں کو پانی کردیا اور عالم اسلام میں ایسا انقلاب لایا کہ جس کا اثر آج بھی پوری دنیا میں موجود ہے اسلئے کہ آج بھی جتنی تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہورہی ہیں انہوں نے کربلا والوں کو اپنا آئیڈیل بنایا ہے ۔

ہم امام حسین علیہ السلام کا  حق اسی وقت اد اکرسکتے ہیں جب آنحضرت کے اس عظیم مقصد کو پورے عالم تک پہونچائیں اور اس کا دفاع بھی کریں ، اسی مقصد امام حسین علیہ السلام اور آپ اور آپ کے اصحاب کی قربانی کی یاد تازہ کرنے کا ایک نمونہ ان مقدس ہستیوں کے چہلم کی یادمنانا ہے جس کی سنت ایک جلیل القدرصحابی رسول جناب جابر بن عبد اللہ انصاری کے عمل سے پڑی جنہوں نے سینکڑوں میل پیدل چل کر ۲۰ صفر المظفر کو نواسہ رسول کی زیارت کا شرف حاصل کیا لہذا آج ہماری بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس روز امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جائیں اور پیدل چل کر زیارت کرنے کی سنت کو زیادہ زیادہ ترویج کریں تاکہ یوں نواسہ رسول [ص]کے حق کو ادا کیا جا سکے ۔



منابع: چہلم امام حسین علیہ السلام پر خصوصی اشاعت
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها چہلم ، ذمہ داری ،

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات