ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


غیربنی ہاشم سے شھداء کے نام ومختصر زندگی نامہ

چاپ
شھدائے غیر بنی ہاشم

باسمہ تعالیٰ

زندگی نامۂ شہدائے غیر بنی ہاشم

از لحاظ قبائل

نوٹ:

اس کتاب میں شہداء کا تذکرہ قبیلہ کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے۔ اول و آخر کے نظریہ سے کنارہ کشی کرتے ہوئے اسی لئے حر کا تذکرہ ان کے قبیلہ میں آئے گا، جو کہ پہلے شہید ہیں۔

حبیب ابن مظاہر

صاحب فرسان الھیجاء نے، صفحہ ٧٨٧ پر آپ کا نسب نامہ اس طرح بیان کیا ہے۔ حبیب ابن مظاہر بن رکاب بن الاشتر بن جخوان بن فقعس بن طریف بن عمرو بن قیس بن الحرث بن ثعلبہ بن دودان بن اسد ابو القاسم الاسدی۔

آپ قبیلۂ بنی اسد سے تعلق رکھتے تھے اور کوفہ کے شرفاء میں شمار کئے جاتے تھے۔ یہ وہی قبیلہ ہے کہ جس نے عاشور کے بعد شہدائے کے دفن و کفن کا انتظام کیا تھا اور امام سجادـ کی ہمراہی کی تھی۔ آپ کی کنیت حبیب تھی اور وقت شہادت عمر پچہتر (٧٥) سال کی تھی۔

آپ شہدائے غیر ہاشمی میں سب سے زیادہ با فضیلت تھے۔ صحابی رسولۖ اور حضرت علیـ ہونے کا شرف بھی آپ کو حاصل ہے۔ حافظ کل قرآن تھے، ہر شب قرآن ختم کیا کتے تھے۔ حامل علوم آل محمد٪ بھی تھے، حضرت علیـ کے ساتھ تمام جنگوں میں شامل تھے۔

سخنان حسین ابن علی، الحسینـ فی طریقة الی الشھادة، ص٦۔

صاحب تنقیح المقال تحریر فرماتے ہیں:

''جناب حبیب، جناب میثم اور جناب رشید ہجری نے حضرت علیـ سے خصوصی کسب فیض کیا تھا اور اپنی موت کے زمان و مکان و کیفیت سے واقف تھے۔

آپ حضرت علیـ کی فوج میں خصوصی شرطة الخمیس کے منبر تھے۔ جب جناب مسلم کوفہ پہونچے ہیں تو آپ لوگوں سے جناب مسلم کے لئے بیعت لے رہے تھے اور امامـ کو کوفہ آنے کی دعوت بھی دی تھی،جیساکہ آپ کے رجز سے یہ بات ظاہر ہورہی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے گا!

منتخب طریحی، مخزن البکاء اور تحفة الحسینہ میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرمۖ اپنے صحابہ کے ساتھ آرہے تے کہ راستہ میں چند بچے کھیلے ہوئے نظر آگئے، ان میں حبیب بھی تھے، آپ وہیں بیٹھ گئے اور آپ کو بلا کر ااپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور دعا دی۔ صحابہ نے پوچھ لیا، حضور! بچے تو اور بھی تھے، یہ صرف حبیب ہی کو کیوں اس قدر پیار کررہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک دن دیکھا کہ حسینـ اور حبیب جارہے ہیں، حسینـ آگے تھے، حبیب ؛پیچھے تھے اور حبیب حسینـ کے پاؤں کی مٹی اٹھا اٹھا کر اپنے چہرے پر مل رہے تھے، یہی وجہ ہے کہ میں حبیب کو زیادہ چاہتا ہوں ور جبرئیل نے مجھ کو خبر دی ہے کہ واقعۂ کربلا میں یہ حسینـ کے ہمراہ ہوں گے، حسینـ کی مدد کریں گے اور ان پر اپنی جان نثار کریں گے۔

آپ کے فضائل و مراتب اتنے ہیں کہ مکمل ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے مگر ہم اختصار کی خاطر صرف آپ کی خاص خصوصیت کو بیان کررہے ہیں۔

صاحب الفرسان الھیجاء صفحہ ٩٠ تا صفحہ ٩٢ تحریر فرماتے ہیں:

''اپنے خانوادہ کے ساتھ کوفہ میں کھانا تناول فرما رہے تھے کہ آپ کی زوجہ کو لقمہ گلو گیر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ شاید قاصد آرہا ہے، ابھی جملہ تمام نہیں ہوا تھا کہ کسی نے دق الباب کیا، جناب حبیب اٹھ کر آئے تو دیکھا کہ ایک شخص ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ امام حسینـ کا قاصد ہے۔ خط کا بوسہ دے کر خط کھولا، اس میں لکھا تھا کہ حسین ابن علی کی طرف سے حبیب ابن مظاہر اسدی کی طرف! اے حبیب! آپ نبی اکرمۖ سے ہماری قرابت سے بخوبی واقف ہیں اور دوسروں کی نسبت ہمارے حقوق سے بھی زیادہ واقف ہیں لہٰذا میں تقاضا کرتا ہوں کہ آپ میری نصرت فرمائیں! میں تنہا کربلا میں نرغۂ اعداء میں گھر چکا ہوں، اس حالت میں کہ نبی زادیاں میرے ہمراہ ہیں۔ خدا آپ کو اس کا اجر عطا کرے گا۔

حبیب نے خط پڑھا اور گھر میں واپس آئے۔ بیوی نے پوچھا، معلوم ہوا حسینـ نے نصرت کے لئے بلایا ہے۔ بیوی نے پوچھا کیا ارادہ ہے؟ کہا کہ مجھ سے کیا مطلب دو شہزادوں کی جنگ ہے، ہم کیوں درمیان میں آئیں۔ بیوی نے تڑپ کر جواب دیا: ائے حبیب! جب سے میں تیری زوجیت میں آئی ہوں، کوئی جسارت نہیں کی مگر آج سن لے کہ یہ معاملہ دو شہزادوں کو نہیں ہے بلکہ یہ حق و باطل کی جنگ ہے۔ یہ ابو سفیان اور نبیۖ کی جنگ ہے۔ یہ علیـ اور معاویہ کی جنگ ہے۔ اے حبیب تجھ سے بڑا ابن الوقت کوئی نہیں ہے، نبیۖ کا بیٹا بلا رہا ہے اور تو کہہ رہا ہے کہ یہ سیاسی جنگ ہے۔ حبیب نے کہا کہ اے نیک بخت میں بوڑھا ہوچکا ہوں، جنگ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، پھر تیرا اور بچوں کا کیا ہوگا؟ یہ سننا تھا کہ ایک مرتبہ بیوی کو جلال آگیا اور چادر اتار کر حبیب کی طرف اچھال دی اور کہا کہ اگر ایسا ہی ہے تو تو گھر میں عورت بن کر بیٹھ جا، میں جاؤں گی نبی زادے کی مدد کو (بعض روایت میں ہے کہ زوجۂ حبیب نے گریہ کیا اور کہا خدایا! کاش میں مرد ہوتی!)۔

جب حبیب نے مکمل اطمینان کرلیا تو کہا زوجہ تو پریشان نہ ہو میں تیرا امتحان لے رہا تھا، میں ابھی جارہا ہوں۔ غلام کو گھوڑا دے کر کوفہ سے باہر انتظار کرنے کو کہہ کر آمادہ ہونے لگے، ادھر غلام نے دیکھا کہ دیر ہورہی ہے تو گھوڑے سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اے اسب اگر آقا نہیں آئے تو میں تیری پشت پر سوار ہو کر حسینـ کی نصرت کو چلوں گا۔ ابھی غلام یہ کہہ ہی رہا تھا کہ حبیب پہنچ گئے اور یہ سن کر بہت غمگین ہوئے اور کہا اے غریب زہرا! آج تجھ پر غلام جان دینے کو آمادہ ہیں تو آزاد کیونکر اپنی جان نہ دیں گے یہ کہہ کر غلام سے کہا جا میں نے تجھ کو راہ خدا میں آزاد کردیا۔ یہ سن کر غلام نے کہا کہ میں اس وقت تک آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ آپ کے آقا کے قدموں میں جان نہ دے دوں۔ جناب حبیب نے غلام کو ساتھ لیا اور کربلا کی طرف روانہ ہوگئے۔

ادھر امامـ نے اپنی فوج کے بارہ حصہ کئے اور ہر حصہ کا ایک علمدار معین کیا اور علم ہر ایک کو سونپ دیا گیا۔ ایک علم بچ گیا تو جناب عباس نے پوچھا کہ مولا! ایک علم بچ گیا ہے تو امامـ نے فرمایا کہ اس کا علمدار آنے والا ہے۔ ابھی یہ بات ہورہی تھی کہ کوفہ کی طرف سے گرد نمودار ہوئی، امامـ نے کہا: عباس، اکبر آگے بڑھو! میرا بچپن کاساتھی آرہا ہے۔ جناب حبیب قریب آئے دیکھا کہ شہزادے استقبال کو آئے ہیں۔ گھوڑے سے اتر کر پیدل چلنے لگے۔ امامـ کے پاس آئے اور سلام کیا قدموں کے بوسہ لے کر عذر خواہی کی کہ مولا تاخیر سے آنے کی معذرت چاہتا ہوں۔ اصحاب کو معلوم ہوا، حبیب آئے ہیں، صلوات کا شور ہوا خیمہ میں جناب زینب٭ نے شور سن کر پوچھا یہ کیسا شور ہے؟ جناب فضہ نے بتایا ک حسینـ کے بچپن کا ساتھ آیا ہے۔ آپ نے عون و محمد کو بلا کر کہا کہ جاؤ جا کر پہلے خود سلام کرنا پھر ماں کی طرف سے سلام کہہ دینا۔ عون و محمد آئے اور سلام کرنے کے بعد عرض کی ماموں آپ کو اماں نے سلام کہا ہے۔ یہ سن کر حبیب نے سر و سینہ پیٹ لیا اور کہا اب یہ وقت آگیا ہے کہ آقا زادی غلاموں کو سلام کہیں۔!

آپ نے امامـ سے کہا کہ اگر اجازت ہو تو یہاں سے کچھ دور ایک قبیلہ ہے بنی اسد اس کو آپ کی حمایت کے لئے بلا لاؤں۔ آپ نے اجازت دی آپ اپنے قبیلہ والوں کے پاس آئے اور کافی موعظہ کے بعد تقریباً نوے (٩٠) لوگوں کو آمادہ کرلیا اور لے کر چلے مگر کسی نے جا کر عمر سعد کو یہ خبر پہونچا دی۔ یہ خبر سن کر عمر سعد نے ایک لشکر بھیج دیا اور راستہ میں تھوڑی سی جنگ کے بعد یہ لوگ اپنے قبیلہ کو واپس چلے گئے۔ حبیب امامـ کے پاس آئے اور سارا واقعہ بیان کردیا۔ امامـ نے سن کر کہا: ''لا حول و لا قوة الا باللہ۔''

انصار الحسینـ، ص٦٦۔

جناب حبیب کی شہادت اس وقت ہوئی جب آپ نے نماز کے لئے جنگ بند کرنے کے لئے کہا تو حصین بن تمیم نے کہا کہ اے حسینـ! تمہاری نماز قبول نہیں ہے۔ اگر نماز تم کو فائدہ دیتی ہے تو پڑھ لو۔ جناب حبیب قریب ہی کھڑے تھے۔ جب یہ سنا تو تڑپ گئے اور کہا: اے شر! تجھے نماز فائدہ دیتی ہے اور فرزند رسولۖ کو نہیں۔! حصین نے غصہ میں آ کر ان نمازیوں پر حملہ کردیا مگر حبیب سامنے آگئے اور تلوار سے گھوڑے کی ناک پر حملہ کردیا گھوڑے نے حصین کو گرا دیا۔ حبیب نے چاہا کہ سر تن سے اتار دیں مگر اس کے ساتھ اس کو بچا لے گئے۔ جناب حبیب نے عرض کی مولا اب اجازت دیجئے کہ نماز عشق ادا کرلوں! امامـ نے اجازت دی، آپ میدان میں آئے اور یہ رجز پڑھا:

''میں ہوں حبیب ابن مظاہر۔ میں ایسا سوار ہوں جو میدان جنگ میں شعلہ بن کر اپنے دشمنوں کو جلا دیتا ہے۔ تم عدد میں زیادہ ہو مگر حق اعلیٰ اور ظاہر ہمارے پاس ہے۔ تم لوگ حیلہ گر اور غدار ہو بلا کر مہمان کو قتل کرتے ہو۔ لیکن ہم وفا دار ہیں۔ بلایا تھا تو ساتھ ہی مرے گیں بھی یہ کہہ کر آپ نے حملہ کیا۔ میمنہ کو میسرہ پر پلٹ دیا۔ قلب لشکر میں گھسے تو بھگڈر مچا دی، یہاں تک کہ باسٹھ (٦٢) سواروں کو واصل جہنم کیا۔ اسی دوران بدبل بن حریم تمیمی نے آپ کے سر پر تلوار سے حملہ کردیا، ابھی سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ کسی ظالم نے پہلو میں نیزہ سے وار کیا، اس کے بعد حصین بن نمیر نے سر پر ایک اور تلوار کا وار کردیا اور بدیل نے بڑھ کر سر کو تن سے جدا کردیا۔ آپ نے آواز دی، مولا! میرا سلام قبول ہو۔ مقتل ابو مخنف میں ہے کہ جناب حبیب کی شہادت میں حسینـ کے چہرے پر خستگی آگئی اور آپ نے فرمایا: اے حبیب! آپ نے فاضل، کامل ہیں اور آپ وہ ہیں کہ جو ایک رات میں قرآن ختم کیا کرتے تھے۔ جب حسینـ لاشۂ حبیب کو اٹھا کر لائے تو جناب زینب٭ نے ماتم کیا اور کہا ائے بھائی حبیب! آپ نے حق کو پہچانا اور اسی راہ میں جان دے دی۔ خدا آپ کو اس کا اجر دے گا۔

آپ کے قاتلوں میں نزاع

بدیل سر لے کر چلا کہ اس کا انعام حاصل کروں مگر حصین نے کہا کہ بدیل اس کے قاتل صرف تم نہیں ہو، ہم بھی ہیں۔ بدیل نے کہا کہ غلط کہہ رہا ہے، میں فقط تنہا اس کا قاتل ہوں۔ حصین نے کہا کہ سن مجھے اس سے کوئی واسطہ نہیں کہ جو انعام تجھے اس کے بدلے ملے گا، میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اس کا سر مجھ کو دے دے تاکہ کوفہ والے یہ دیکھ لیں کہ حبیب کے قتل میں، میں بھی شریک تھا اور صرف چند گھنٹوں کے بعد سر واپس لے لینا اور ابن زیاد کو جا کر دکھا دینا اور انعام لے لینا۔

بڑی مشکل کے بعد بدیل نے سر کو حصین کے حوالہ کردیا اور حرام زادے نے آپ کا سر گھوڑے کی گردن میں لٹکا کر پورے لشکر کا چکر لگایا تاکہ لوگ دیکھ لیں اور کوفہ جا کر کہیں کہ میں بھی حبیب کے قتل میں شریک تھا۔

تاریخ طبری، ج٥، ص٤٤٠؛ مقتل خوازی، ج٢، ص١٩ ؛ اکلیل المصائب، ص١٤٠؛ مقتل ابی مخنف، ص١٠٤؛ انصار الحسینـ، ص٨٢؛ وغیرہ۔

 

مسلم ابن عوسجہ

آپ کا حسب و نسب

مسلم ابن عوسجہ بن سعد بن ثعلبہ بن دودان بن اسد بن خزیمة ابو جہل الاسدی السعدی۔

ابصار العین، ص١٦۔

آپ کے والد اور بیٹے دونوں کا نام ''عوسجہ'' تھا۔

منتخب التواریخ، ص٢٧٥۔

آپ کو ''ابو عوسجہ'' بھی کہا جاتا تھا۔ آپ کوفہ کے شرفاء میں شمار کئے جاتے تھے۔ قبیلۂ بنی اسد سے تعلق رکھتے تھے۔ جناب مسلم کی شہادت کے بعد کچھ روز کے لئے رو پوش ہوگئے تھے، بع میں مع اہل و عیال امام حسینـ سے آ کر مل گئے اور کربلا میں شہید ہوئے۔

ابصار العین، ص٦٢۔

وقت شہادت کافی ضعیف تھے، یہاں تک کہ جب جنگ کے لئے نکلے ہیں تو کمر میں پٹکا باندھا ہے تکاہ کمر سیدھی رہے۔

انصار الحسینـ، ص١٠٧۔

آپ کوفہ کے معززین میں تھے۔ آپ کے فضائل بہت زیادہ ہیں، ان میں سے کچھ ہم یہاں بیان کررہے ہیں۔ آپ صحابی رسول اسلامۖ بھی تھے، آپ نے بہت سی احادیث رسول اسلامۖ سے نقل کی ہیں، نیز امام حسینـ و امام حسنـ اور امام علیـ کے صحابی تھے۔ آپ کا ایک بہت بڑا شرف یہ ہے کہ آپ نے چھ معصومو کی زیارت کی ہے، رسول اسلامۖ، امام علیـ، امام حسنـ، امام حسینـ، امام سجادـ اور امام محمد باقرـ۔

اسد الغابہ، ج٥، ص١٧٢۔

آپ علم و کمال میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، تقویٰ بھی بدرجۂ اتم آپ کے اندر پایا جاتا تھا، شجاع، بہادر امام علیـ کے ساتھ اکثر جنگوں میں شریک رہے ہیں۔ حضرت علیـ نے آپ کو اکثر بھائی کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ قرآن کی تعلیم حضرت علیـ سے حاصل کی۔ شب زندہ دار تھے، اپنے ہم عصر لوگوں میں آپ قراء اور عباد کے نام سے مشہور تھے۔

مدرک سابق، ص١٤١؛ تنقیح المقال، ج٣، ص٢١٤؛ نقائش الاخبار، ص١٢٦۔

جب جناب مسلم کوفہ پہونچے تو آپ جناب مسلم کے لئے پیسہ، اسلحہ جمع کررہے تھے اور لوگوں سے بیعت بھی لے رہے تھے۔

نفس المہوم؛ فرہنگ عاشورا، ص٤٢١؛ فرسان الھیجائ، ج٢، ص١١٦؛ نقائش الاخبار، ص١٢٦؛ ابن شہر آشوب، ص٥٧٦؛ جلاء العیون، علامہ مجلسی، ص٣٩٥، ناسخ التواریخ، ص٢٦٥۔

پر لکھا ہے کہ آپ عمیر بن عبد اللہ کی شہادت کے بعد میدان کربلا میں جنگ کے لئے آئے ہیں۔ بعض نے لکھا ہے کہ (مذکورہ حوالہ ہی میںہے) عمر ابن حجاج نے امامـ کو سنانے کے لئے کوفہ والوں کو مخاطب کرکے کہا کہ کبھی یزید جیسے امام حق کا دامن نہ چھوڑنا اور اس کے اسی خاصہ کی خاطر اس پر اپنی جان نچھاور کردو نہ دیکھو کہ ہمارے مقابل کون ہے؟ صرف یہ دیکھو کہ ہم امام حق یزید (لعنة اللہ علیہ) کی اطاعت کررہے ہیں۔ اس پر امام حسینـ نے فرمایا: اے عمرو ابن حجاج! خدا سے ڈرو اگر یزید امام حق ہے تو امام باطل کون ہوگا جو یہودیوں کا پروردہ، لہو و لعب کا دلدادہ ہے میرے مقابلے کے لئے لوگوں کو آمادہ کر مگر حقیقت کو نہ جھٹلا، حق کو حق اور باطل کو باطل ہی رہنے دے۔ اس پر عمرو کو غصہ آگیا اور اس نے امامـ پر حملہ کا حکم دے دیا۔ جناب مسلم اور زہیر بن فیض نے مقاومت کی اور ایک گھنٹہ تک جنگ جارہی جب گرد ہٹی تو لوگوں نے دیکھا کہ مسلم خاک و خون میں نہائے ہوئے زمین کربلا پر پڑے ہوئے ہیں۔

بعض نے لکھا ہے کہ آپ اجازت لے کر میدان میں آئے (مذکورہ حوالے) اور یہ رجز پڑھا:

''اگر میرے بارے میں پوچھو تو میں صاحب قوت بنی اسد کی ایک شاخ ہوں جو ہم سے بغاوت کرے گا، حق و ہدایت سے دور ہوگا اور دین خدا کا منکر شمار ہوگا۔''

یہ رجز پڑھ کر آپ شیرانہ حملہ کرتے ہوئے فوج یزید میں در آئے اور بہت سے یزیدیوں کو واصل جہنم کردیا اور آخر میں بروایت لہوف آپ کو عبد الرحمن ابن ابی خشکارة اور عبد اللہ خبابی مل کر نیزہ سے وار کرکے گھوڑے سے گرا دیا۔ آپ نے امامـ کو آخری سلام کیا۔ امامـ، مسلم کی آواز پر مسلم کے سرہانے پہونچے اور ارشاد فرمایا: اے مسلم! خدا تم پر رحمت نازل کرے۔ مجاہدوں میں سے بعض نے اپنی جان دے کر شہادت کا درجہ حاصل کرلیا اور بعض اس کے منتظر ہیں۔ پھر حبیب ابن مظاہر قریب آئے اور کہا کہ اے مسلم تمہارے قتل ہونے کا مجھ کو بڑا قلق ہے۔ تمہیں بہت مبارک ہو جس پر جناب مسلم نے آہستہ سے کہا کہ تم کو بھی مبارک ہو! پھر حبیب نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میں بھی بہت جلد تمہارے پاس آرہا ہوں، مگر کوئی وصیت ہو تو کردو میں پورا کرنے کی کوشش کروں گا۔ جناب مسلم نے امامـ کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ حبیب آخر نفس تک فرزند رسولۖ و بتول کا دفاع کرنا، ان کو نہ چھوڑنا۔ جناب حبیب نے کہا واللہ میں ایسا ہی کروں گا پھر جناب مسلم نے موت کی ہچکی لی اور باغ جناں کی طرف سدھار گئے۔

ادھر لشکر عمر بن حجاج میں خوشیاں منائی جانے لگیں کہ ہم نے مسلم کو قتل کردیا، یہ سن کر مسیت بن ربیعی نے اپنے لشکر والوں کوکہا کہ تم کو غیرت نہیں آتی تمہاری مائیں تمہارے ماتم میں بیٹھیں! اپنے عزیزوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرکے خوشیاں منارہے ہو، سنو واللہ مسلمانوں کی جنگ میں میں نے ان کو بڑی شان و شوکت سے جنگ کرتے دیکھا ہے۔ مسلم اسلام کا بے باک سپاہی تھا۔ اسلام کا محافظ تھا، اسلام کا مدافع تھا۔ تم اس کو قتل کرکے خوشیاں مناتے ہو۔! (یہ ہے دشمن کی زبان سے حق کا پرچار)۔

جناب مسلم کی شہادت کے بعد سب سے پہلا بین آپ کی کنیز نے کیا اور کہا: وا مسلماہ وا عوسجاہ! اور دوسرا بین جناب زینب٭ نے کیا اور کہا: وا اخاہ وا سیداہ!

آپ کے قاتلوں کے بارے میں تھوڑا اختلاف ہے۔ صاحب فرہنگ عاشورا نے صفحہ ٣٢٧ پر آپ کا قاتل عمد بن حجاج کو لکھا ہے، جبکہ صاحب بحار نے جلد٤٥، صفحہ٦٩ پر مسلم ابن عبد اللہ خبابی، عبد الرحمن ابن خشکارة کو لکھا ہے۔

 

شہادت فرزند جناب مسلم

شہادت جناب مسلم بن عوسجہ کے بعد ایک نو خیز بچہ خیمہ سے نکلا، اس حالت میں کے تلوار کمر سے لٹکی ہوئی، زمین پر خط کھینچ رہی ہے اور میدان کار زار کی طرف جارہا ہے۔ امامـ نے دیکھا تو آواز دی: عباس! اس بچہ کو روک لو، جناب عباس نے بڑھ کر بچے کو روکا اور امامـ کی خدمت میں حاضر کردیا۔ امامـ نے کہا کہ بیٹا! آپ ابھی بہت کمسن ہیں اور ابھی ابھی تیرا باپ شہید ہوا ہے تو تو آخری سہارا ہے اپنی ماں کا، جا اور خیمہ میں واپس پلٹ جا۔ یہ سننا تھا کہ بچے نے کہا کہ مولا! یہ جو آنکھوں میں سرمہ ہے، یہ ماں نے لگایا ہے اور یہ جو تلوار کمر سے بندھی ہے، ماں نے باندھی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ جا کر فرزند زہرا پر اپنی جان نچھاور کردے۔مگر امامـ کے اصرار پر وہ خیمہ میں واپس گیا۔ ماں نے جو دیکھا تو سخت ناراضگی کے عالم میں کہا: بیٹا! تیری سلامتی نہ ہو، فرزند زہرا پر دشمن حملہ کریں اور تو گھر میں رہے۔میں تجھ سے کبھی راضی نہ ہوں گی۔ یہ سننا تھا کہ بچہ نے گریہ کیا اور واپسی کی علت بتائی۔ زوجۂ مسلم خیمہ کے در پر آ کر امامـ سے مخاطب ہو کر کہتی ہیں: مولا! میرا آخری ہدیہ قبول کر لیجئے! آپ کو زہرا کا واسطہ! امامـ مجبور ہو کر رو دیئے،بچے کو گلے لگا کر کہا جاؤ خدا حافط! بچہ میدان میں آیا اور شجاعانہ حملہ کرکے بروایت نور الائمہ، بیس (٢٠) اور بروایت روضة الشہدائ، صفحہ٢٨٢، تیس (٣٠) ناریوں کو جہنم واصل کرکے شہید ہوا۔ ماں بھی ایک ٹیلہ پر کھڑی ہو کر جوش دلا رہی تھی۔ دشمن نے بچہ کا سر کاٹ کر ماں کی طرف اچھال دیا۔ ماں نے سر کو اٹھایا، بوسہ دیا اور اس قدر روئیں کہ دوست و دشمن سب رو دیئے۔ اس کے بعد سر کو واپس فون یزید کی طرف پھینک کر کہا کہ ہم نے اس کو فرزند زہرا پر صدقہ کردیا تھا، ہم صدقہ واپس نہیں لیا کرتے، پھر ایک شعر پڑھ کر واپس خیمہ میں پلٹ آئیں۔ شعر کا ترجمہ:

''یہ تو نے اچھا کیا میرے لال! تو نے ماں کا سر بلند کردیا۔ میرے دل کو ٹھنڈا کردیا اور آنکھوں کو سرور بخشا۔!''

ریاض القدس، ص٣٩١؛ ناسخ التواریخ، ج٦، ص٢٦٢؛ روضة الاحباب؛ نفس المہوم؛ بحار الانوار۔

 

قیس بن مسہر الصداوی

قیس بن مسہر بن خالد بن جندب بن منقد بن عمرو بن قیس بن الحرث بن ثعلبہ بن دودان بن اسد بن حزیمہ اسدی صداوی۔

ابصار العین، ص٦٤۔

آپ جناب حبیب اور جناب مسلم بن عوسجہ کے رشتہ دار و دوست تھے۔ آپ بھی صحابی رسولۖ تھے۔ کوفہ کے شرفاء میں آپ کا شمار ہوتا تھا،قبیلۂ بنی اسد سے تعلق رکھتے تھے۔

انصار الحسینـ، ص١٢٠۔

شیخ طوسی نے اور علامہ نے آپ کو صحابی امام حسینـ میں شمار کیا ہے۔ اصحاب رسولۖ سے تین (رجال طوسی، ص٧٠٩) آپ کو کوفہ والوں کا خط لے کر امامـ کی خدمت میں گئے اور واپسی میں جناب مسلم کے ہمراہ کوفہ میں وارد ہوئے اور اس کے بعد سے مسلسل آپ کے ساتھ رہے اور پھر آپ کو کوفہ والوں کا خط لے کر مکہ پہونچے۔ امام حسینـ کی خدمت میں امامـ نے جواب لکھ کر آپ کو واپس کوفہ روانہ کردیا۔ راستہ میں آپ حصین بن نمیر کے ہاتھوں حالت نماز میں گرفتار کر لئے گئے اور دربار ابن زیاد میں پیش کئے گئے۔

تاریخ ابن خلدون، ج٣، ص٢١۔

آپ نے گرفتاری کے وقت نامۂ امامـ کو پارہ پارہ کر کے منھ میں رکھ لیا تاکہ امامـ نے جن لوگوں کو خط لکھا تھا، ان کا نام ظاہر نہ ہوجائے۔

ابن زیاد نے پوچھا کہ قیس خط کہاں ہے اور اس میں کیا لکھا تھا، تو آپ نے جواب دیا کہ مجھے ہر دو کے بارے میں علم نہیں ہے کہ امامـ نے خط میں کیا لکھا تھا اور اس میں کس کے کس کے نام تھے۔ ابن زیاد نے کہا کہ قیس اگر زندگی چاہتے ہو تو آؤ اور منبر سے حسین و علی کو بر کہو! ان پر نفرین کرو۔ آپ منبر پر آئے اور خدا کی حمد و ثنا کی، حمد و ثنا کے بعد محمد و آل محمد٪ پر صلوات پڑھنے کے بعد کہا:

''اے لوگو! حسینـ دنیا کے بہترین بشر ہیں اور فاطمہ بنت محمدۖ کے نور نظر ہیں، نیز میں انہیں کا پیغامبر ہوں، ان کو میں نے منز حاجز میں چھوڑا ہے، تم لوگوں پر لازم ہے کہ ان کی مدد کے لئے آمادہ ہوجاؤ! عنقریب وہ تم لوگوں کے درمیان آنے والے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے یزید بن معاویہ اور ابن زیاد پر لعنت بھیجی اور ان کے حالات سے عوام کو آگاہ کررہے تھے کہ ابن زیاد نے حکم دیا کہ اس کو گرفتار کرکے دار الامارہ پر لے جا کر قتل کردو! اور اس کی لاش کو نیچے پھینک دو! آپ کو گرفتار کرلیا گیا اور عبد الملک بن عمیر لنحمی نے آپ کو دار الامارہ پر لے جا کر سر و تن میں جدائی کردی اور لاش کو دار الامارہ سے نیچے پھینک دیا۔ آپ کو کوفہ میں گرفتاری کے بعد چند لمحوں کی فرصت ملی تھی، جس میں آپ نے ستائیس (٢٧) افراد کو واصل جہنم کردیا۔

ارشاد مفید، ص٢٠٢ و ٢٠٣؛ تنقیح المقال، ج٢، ص٣٤۔

آپ کی خبر شہادت پر امام حسینـ نے گریہ کیا اور دعا کی کہ خدایا! تو ہمارے چاہنے والوں کو جنت میں ایک خاص مقام و منزلت عطا کر!

طبری، ج٤، ص٣٠٦۔

آپ کا نام زیارت ناحیہ اور زیارت قائمیہ میں بھی آیا ہے:

''السلام علی قیس بن مسھر الصداوی۔''

بحار الانوار، ج٤٥، ص٧١۔

 

انس بن حارث کاھلی

انس بن الحرث (الحارث) بن بنیہ بن کاھل بن عمرو بن صعب بن اسد بن حزیمہ اسدی کاھلی۔

انصار الحسینـ، ص٥٥۔

آپ اصحاب رسول اسلامۖ سے تھے اور جنگ بدر اور حنین میں بھی شرکت کی تھی۔

کربلا میں آپ کافی ضعیف، سن رسیدہ تھے۔

انصار الحسینـ، ص٧٥۔

بعض تاریخی منابع میں آپ کا نام مالک بن انس سے تعبیر کیا گیا ہے۔

بحار الانوار، ج١٠، ص٢٤، اردو؛ ناسخ التواریخ۔

آپ اصحاب صفہ سے بھی تعلق رکھتے تھے اور حدیث کے ناقل بھی تھے۔

انصار الحسینـ، ص٧٥۔

آپ نے رسول اسلامۖ سے سنا تھا کہ میرا ایک بیٹا عراق میں شہید کیا جائے گا۔ جو بھی اس وقت اس کو پالے اس کی مدد کرے اور خود کو کربلا پہونچائے، آپ نے جب سنا کہ حسینـ کربلا کی طرف چلے گئے خود کو شب و روز سفر میں ڈال کر کربلا پہنچ گئے اور روز عاشورہ قرة بن ابی قرہ کے بعد عازم میدان ہوئے اور یہ رجز پڑھا:

''قبیلۂ مالک ودودان و بنی اسد اور اصحاب خندق یہ جان لیں کہ میرا قبیلہ دشمن کے مقابلہ میں شمشیر برندہ ہے۔ ہم نیزہ سے حملہ کرتے ہیں، دشمن کو زیر کردیتے ہیں۔ ہم علیـ والے، پیروان خدا ہیں اور آل زیاد، پیروان شیطان ہیں۔ اس کے بعد آپ نے حملہ کردیا اور چودہ (١٤) دشمنوں کو واصل جہنم کرکے شہید ہوئے۔''

مناقب ابن شہر آشوب، ج٤، ص١٠٢۔

آپ کا اسم مبارک بھی زیارت ناحیہ میں آیا ہے:

''السلام علی انس بن کاھل الاسدی۔''

آپ نے گرتے گرتے، امامـ کو آخری سلام کیا۔ امامـ آپ کے پاس آئے اور گریہ فرمایا اور دعا دی۔

 

عمر بن خالد صداوی

عمر بن خالد بن حکیم بن حزام اسدی صداوی، آپ کوفہ کے رہنے والے تھے۔

تنقیح المقال، ج٢، ص٣٣٠۔

مامقانی نے ابی مخنف سے روایت نقل کی ہے کہ آپ اہل بیت٪ کے چاہنے والے تھے اور مسلم بن عقیل کے مدد گاروں میں تھے۔ جب آپ کی شہادت ہوگئی تو آپ مخفی ہوگئے۔ اس کے بعد جب آپ کو معلوم ہوا کہ امامـ منزل حاجز پر آ چکے ہیں تو آپ اور سعد مجمع بن عبد اللہ العایذی و جنادہ بن الحرث السلمانی اور غلام نافع بن ھلال بجلی اور طرماح بن عدی کو لے کر امامـ کی طرف چلے اور کافی راستہ کی مشکلات جھیل کر امامـ کو خود کے ساتھیوں کے ہمراہ پہونچا دیا، لیکن حر سد راہ ہوا کہ قافلۂ امامـ سے ملحق نہیں ہونے دیں گے۔ امامـ کو معلوم ہوا کہ حر میرے ساتھیوں کو روک رہا ہے تو امامـ نے حر سے کہا کہ میرے ساتھیوں کو مت روکو ورنہ جنگ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گی۔ حر اپنے ارادہ سے منصرف ہوگیا اور یہ لوگ امامـ سے ملحق ہوگئے۔ جب یہ لوگ امامـ کے پاس پہونچے تو امامـ نے سوال کیا کہ کوفہ کی کیا خبر ہے؟ تو آپ نے کہا کہ بزرگان نے کوفہ سے رشوت لے لی ہے اور آپ سے جنگ کے لئے آمادہ ہیں۔ باقی لوگوں کا حال یہ ہے کہ آپ کے ساتھ ہیں مگر تلوار ابن زیاد کے ہمراہ ہے۔

بحار الانوار، ج٤٥، ص٢٣؛ مقتل لہوف، ص٩ و ٦٨؛ نفس المہموم؛ ابصار العین؛ ذخیرة الدارین؛ منتہی الآمال، ج١، ص٣٥٧، میں ہے کہ روز عاشور آپ امامـ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی، مولا! خدا آپ کا فدیہ مجھے قرار دے۔ میری خواہش ہے کہ آپ کے ساتھیوں سے ملحق ہوجاؤں۔ میں آپ کو تنہا اور آپ کی ذریت کو مقتول نہیں دیکھ سکتا۔ اس کے جواب میں امامـ نے فرمایا: خدا تم پر رحم کرے! جاؤ عنقریب میں بھی تم سے ملحق ہوجاؤں گا۔ آپ میدان میں آئے اور اس طرح رجز پڑھا:

''اے نفس خدا کی طرف چل کہ اسی میں نیکی ے اور نیکیوں کی بشارت ہے۔ یہ وہ روز ہے کہ جس دن آل محمد٪ کے احسان کا کچھ حصہ شہید ہو کر ادا کردیا جائے۔ اے نفس بے تابی نہ کر۔ ہر ذی روح کو اسی طرف جانا ہے، مگر راستہ جدا جدا ہے۔ ہمارا راستہ صحیح ہے کہ امام حقـ کے قدموں میں جان دے دیا جائے۔''

اس کے بعد آپ نے شیرانہ حملہ کردیا۔ ٧٧ ناریوں کو واصل نار و سقر کرکے خود شہید ہوگئے۔

 

شہادت خالد بن عمر الصداوی

آپ عمر کے بیٹے تھے جو کوفہ سے ہمراہ آئے تھے۔ جب باپ کی شہادت دیکھی تو امامـ کے پاس آ کر اجازت طلب کی۔ اب زندگانی دنیا پر افسوس ہے۔ اجازت دیں کہ آپ کا دفاع کرتے ہوئے راہ خدا میں جان دے دوں۔ امامـ نے اجازت دی اور آپ نے میدان میں آ کر اس طرح رجز پڑھا:

''اے بنی قحطان! راہ خدا میں جان بچانا ایسا ہے کہ جیتے جی مر گئے، بلکہ ہونا یہ چاہئے کہ راہ خدا میں جان دے دو کہ اسی میں عظمت و بزرگی ہے۔ اے میرے بابا! آپ بہشت بریں میں پہنچ گئے۔ میں بھی آپ سے ملحق ہونے کے لئے آ رہا ہوں۔''

اس کے بعد حملہ کیا اور بارہ (١٢) دشمنوں جہنم واصل کرکے خود شہید ہوگئے۔ امامـ نے آپ کا اور آپ کے باپ کا لاشہ اٹھا کر دعائیں دیں اور گریہ فرمایا۔

بحار الانوار، ج٤٥، ص١٨۔

 

سعید (سعد) بن عبد اللہ

بحار الانوار، جلد ٤٥ کے صفحہ ١٨ پر ہے کہ آپ عمر ابن خالد کے مولا تھے اور کوفہ سے ہمراہ ہی آئے تھے اور میدان کربلا میں روز عاشور شہید ہوگئے مگر بعض دوسرے مؤرخین نے یہ نہیں لکھا کہ آپ عمر بن خالد کے آقا نہیں بلکہ صرف ہمراہ آئے تھے۔

جب شب عاشور امامـ نے کہا کہ میں نے چراغ خاموش کردیا ہے اور چاہتا ہوں کہ تم لوگ چلے جاؤ تو آپ کھڑے ہو کر کہنے لگے مولا! خدا کی قسم آپ کو تنہا کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ یہاں تک کہ یہ ثابت کردوں کہ رسول اسلامۖ کے بعد ہم نے ذریت رسولۖ کو تنہا نہیں چھوڑا ہے۔ خدا کی قسم اگر معلوم ہوجائے کہ قتل کیا جاؤں گا پھر لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے جلایا جائے گا یہاں تک کہ ستر مرتبہ ایسا ہی ہوگا، تب بھی آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔ آپ کے قدموں میں مرجانا، حیات ابدی کے مانند ہے۔

اعیان الشیعہ، ج٧، ص٢٤١۔

جب کربلا میں امامـ نماز ظہرین کے لئے کھڑے ہوئے تو یزیدیوں نے تیر برسانا شروع کردیا۔ آپ نے باکمال ہمت امامـ کے سامنے خود کو کھڑا کردیا اور تیر اپنے جسم پر لے رہے تھے، یہاں تک کہ تیرہ (١٣) تیر آپ کے جسم میں پیوست ہوگئے اور جب امامـ نے نماز تمام کی تو آپ زخموں کی تاب نہ لا کر گر پڑے اور عرض کیا: یا بن رسولۖ! کیا میں نے اپنے عہد کی وفا کی؟ امامـ نے فرمایا: تم نے اپنے عہد کو وفا تک پہونچا دیا۔ خدا آپ کو مجھ سے پہلے وارد جنت کرے گا۔

بحار الانوار، ج٤٥، ص٢١۔

آپ کا اور عمر ابن خالد کا نام زیارت ناحیہ میں بھی آیا ہے:

''السلام علی عمر ابن عمر الصداوی و السلام علی سعید مولاہ۔''

بحار الانوار، ج٤٥، ص٧٢۔



منابع: بحارالانوار،اعیان الشیعہ، تنقیح المقال
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها اصحاب، شھداء ، کربلا ، امام حسین

مطالب مشابه


1
اربعین عطش‎‎های پرپر
کاروان خاطرات، بازگشته است از جایی که چهل روز گذشته است از ماتم‎های سرخ، از عطش‎های پرپر شده است
 1395/04/27
2
پژوهشی در اربعین حسینی(علیه السلام)
محسن رنجبر. حضور اهل بیت(علیهم السلام) در اولین اربعین شهادت امام حسین(علیه السلام) بر سر مزار آن حضرت در کربلا از مسائلی است که در قرون اخیر برخی محققان شیعه درباره آن تشکیک کرده اند. در مقابل، برخی دیگر از اندیشمندان، درصدد رد این تشکیک و اثبات اربعین اول شده اند. این نوشتار ابتدا به دلایل منکران اربعین اول پرداخته و در ادامه به پاسخ گویی آن ها می پردازد، سپس با استفاده از قراین و شواهد دیگر، دیدگاه موافقان اربعین اول را تأیید می کند.
 1395/04/27
3
تحقیقی در باره اربعین حسینی
مسئله اربعین سید الشهداء(علیه السلام) و این که آیا خاندان آن حضرت پس از رهایی از اسارت یزید قصد عزیمت به کربلا را داشته و نیز آیا توانسته اند در آن روز به زیارت آن مضجع شریف نایل آیند و مرقد مطهرش را زیارت کنند، از جمله مسائلی است که از دیرباز صاحب نظران در باره آن اختلاف نظر داشته و هریک با استشهاد به ادله تاریخی برای اثبات یا نفی آن تلاش کرده اند
 1395/04/27

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات