ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


آل ابوطالب سے شھداء کے نام ومختصر زندگی نامہ

چاپ
شھدائے آل ابوطالب

باسمہ تعالیٰ

نوٹ

یوں تو شہدائے بنی ہاشم کی ہر فرد کی تاریخ لکھنے کے لئے مکمل ایک ایک جلد کی کتاب درکار ہے مگر ہم یہاں پر مختصراً بنی ہاشم کے شہداء کے خاص خاص پہلو پر روشنی ڈالنے پر اکتفا کررہے ہیں                                                          

حضرت علی اکبرـ

اسم گرامی

آپ کا اسم گرامی ''علی'' تھا اور یہ نام امامـ کو بہت پسند تھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے:

''اگر خدا مجھ کو اولاد پر اولاد عطا کرے تو ہر ایک کا نام علیـ ہی رکھوں گا۔''

فرسان الھیجائ، ج١، ص٢٩٠۔

کنیت

آپ کی کنیت ''ابو الحسن'' تھی۔ جیساکہ امام صادقـ نے ابو ہمزۂ ثمالی سے آپ کی زیارت کے آداب میں بتاتے ہوئے فرمایا تھا:

''جب علی اکبرـ کی زیارت کو جاؤ تو قبر کو پکڑ کر تین مرتبہ کہو! ''صلی اللہ علیک یا ابا الحسن''۔''

کنیت عرب میں نام کی طرح رکھی جاتی تھی۔ ادھر بچہ پیدا ہوا اور نام کے ساتھ ہی کنیت بھی رکھ دی جاتی تھی۔ ابا الحسن سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ آپ حسن کے باپ تھے۔

اکلیل المصائب؛ سالار شہیدان، ص١١٠۔

آپ کے گرد عصمتی حصار

آپ نے حضرت علیـ کی زندگی میں ہی آنکھ کھولی اور امام حسینـ کا قاعدہ یہ تھا کہ جب کوئی بچہ آپ کے گھر پیدا ہوتا تھا تو آپ اس کو مسجد میں رکھ آتے تھے اور گھر کی کوئی فرد اس بچہ کو لے لیتی تھی۔ اس طرح آپ کو امام حسنـ نے لیا اور جناب زینب٭ کے حوالے کردیا اور اور آپ مختلف عصمتی آغوش میں تربیت پاتے ہوئے پروان چڑھتے رہے، خصوصاً آپ کی پرورش میں امام حسنـ نے کافی حصہ لیا تھا۔ آپ گھر میں ہر دل عزیز تھے اور قابل احترام بھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ رسول اسلامۖ سے مشابہت رکھتے تھے یعنی آپ کے گرد عصمتی حلقہ تھا کہ جس کے درمیان آپ کی پرورش ہوئی۔

انصار الحسینـ، ص١٠١۔

آپ کے خد و خال

آپ کا چہرہ نوارنی تھا، مثل چودھویں کے چاند، کوئی عام انسان آپ کی صورت کو دل بھر کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ آپ کے چہرہ پر نور کے ساتھ ساتھ بنی ہاشم کا رعب و دبدبہ بھی تھا۔ قد درمیانہ تھا نہ زیادہ لمبا اور نہ چھوٹا، سر بھی متوسط تھا۔ آپ کے بال سیاہ اور ہموار تھے اور درمیان سے مانگ نکلی رہتی تھی، پیشانی کشادہ اورابرو باریک تھے۔ آپ کی ناک پتلی اور جاذب نظر تھی، دہان مبارک بھی درمیانہ تھا اور دندان مبارک سفید اور نازک مثل موتیوں کے صاف و شفاف تھے۔ سینہ چوڑا اور دستہائے مبارک لمبے گھٹنے سے نیچہے تک تھے جو کہ شجاع ترین انسان کی علامت ہے۔ جیساکہ خود حضرت علیـ اور جناب عباسـ کے تھے اور سب سے بڑی بات تو یہ کہ کائنات کے سب سے معتدل انسان کے اس قدر مشابہ تھے کہ خود امامـ نے فرمایا تھا:

'' علی اکبرـ میرے نانا سے 'خلقا خلقا و منطقاً' مشابہ ہے اور جب مجھے نانا کی زیارت کا شوق ہوتا تھا تو میں اپنے اس بیٹے علی کو دیکھ لیا کرتا تھا۔''

آپ کا اخلاق

آپ نہ صرف جسمانی لحاظ سے رسول اسلامۖ سے مشابہ تھے بلکہ اخلاقی پہلو بھی رسول اسلامۖ کے ہو بہو تھا۔ راستہ چلتے ہوئے آنکھیں نیچی، کاندھے چھکے ہوئے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے تھے، جود و سخا کی یہ حالت تھی کہ اپنے وقت میں آپ سخی کی حیثیت سے جانے جاتے تھے کسی سے کلام کرتے تھے تو چہرے پر مسکراہٹ رقصاں رہتی تھی کبھی باآواز بلند نہ گفتگو کی ہے نہ قہقہہ لگا کر ہنسے۔ آپ مہمان نواز تھے، اکثر و بیشتر مدینہ سے باہر بیٹھ کر شام کو مہمان کا انتظار کرتے تھے اگر کوئی مسافر شام کے وقت ادھر سے گذر رہا ہے تو اس کو کسی کسی طرح راضی کرکے رات بھر کے لئے ضرور روک لیتے تھے اور مہمان نوازی فرما کر خوش ہوتے تھے۔

فصاحت و بلاغت میں بھی آپ کا جواب نہیں تھا، بولتے تھے تو بہت ہی فصیح و بلیغ جملہ بولتے تھے، خود حضرت علیـ حدیثیں نقل فرماتے تھے۔

مختصراً یہ کہ اگر آپ درجۂ شہادت پر فائز نہ ہوتے تو یقینا امامت جیسا عہدہ آپ کے پاس ہوتا اس لئے کہ وہ سارے شرائط جو ایک امام کے ہوتے ہیں وہ آپ کے اندر بدرجۂ اتم موجود تھے۔ کتاب کی طوالت کا ڈر ہے ورنہ آپ کی عصمت کو ثابت کرتا۔

خود حضرت علیـ نے فرمایا تھا:

''کسی آنکھ نے علی اکبرـ جیسا خوش رو اور خوش خلق انسان نہیں دیکھا سوائے رسول اسلامۖ کے۔''

اکلیل، ص٢١٠؛ انصار الحسینـ، ص١٢٥۔

دور دور سے بادشاہان وقت اپنے اپنے شہزادوں کے ساتھ مدینہ آتے تھے، علی اکبرـ کی زیارت کو اس لئے کہ آپ کی خوبصورتی کا چرچا عرب اور عجم تمام ہوچکا تھا ایک مرتبہ ایک بادشاہ آیا اور اس نے علی اکبرـ کو دیکھنے کی خواہش کی۔ اس سے امام حسینـ نے پوچھا کہ اے شخص اگر خدا تجھ کو ایسا بیٹا عطا کرے اور ایک دن اس کے پاؤں میں کانٹا چبھ جائے تو تیرا رد عمل کیا ہوگا ...؟ اس نے کہا کہ میں اس کانٹے کو اپنے چشم پلک سے نکالوں گا۔ امامـ نے گریہ فرمایا اور کربلا کا واقعہ اس کے سامنے بیان کردیا اور کہا کہ میں خود وہ باپ ہوں کہ اس کے سینہ سے برچھی کا پھل نکالوں گا۔''

اس واقعہ کی سند تو نہیں مل سکی البتہ بزرگوں سے اور علماء اور ذاکرین سے سنا ضرور ہے۔

معاویہ لعنة اللہ علیہ کا بیان

ایک مرتبہ معاویہ دربار میں بیٹھا تھا کہ اس نے اپنے درباریوں سے سوال کیا کہ بتاؤ! اس وقت خلافت کا صحیح حقدار کون ہے۔ تو لوگوں نے یعنی اس کے حاشیہ نشینوں نے کہا کہ آپ سے زیادہ بہتر اور حقدار کون ہوسکتا ہے تو معاویہ نے کہا کہ مجھ سے زیادہ بہتر اور افضل خلافت کا حقدار علی ابن الحسین ہے کہ اس کا نانا رسول اسلامۖ ہیں، اس کے اندر بنی ہاشم کی شجاعت، بنی امیہ کی سخاوت (١) اور بنی ثقیف کا حسن پایا جاتا ہے اور تینوں قبیلہ کی خصوصیت اس کے اندر جمع ہوگئی ہیں۔

(١) یہ ایک غلط روایت ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ بنی امیہ سخی تھے، اس کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

ناسخ التواریخ، ج٢، ص٣٤٩؛ مقاتل الطالبین، طبع قاہرہ، ص٨٠۔

فضیلت تو وہی بہتر ہوتی ہے کہ جو دشمن کے منھ سے سنی جائے۔ معاویہ جیسا دشمنان اہل بیت٪ و خدا بھی آپ کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکا۔

آپ کی والدۂ گرامی

آپ کی والدۂ گرامی ''لیلیٰ بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی'' تھیں۔ آپ بھی ابتداء ہی سے اسلام کی طرف مائل تھیں، مگر بعض وجوہات کی بناپر اسلام قبول نہیں کیا تھا اور وہ بعض وجوہات تاریخ کی کتاب میں نہیں ملتے۔

مقاتل الطالبین، طبع قاہرہ، ص٨٠؛ فرہنگ عاشورہ، ص٣٢٢۔

موت سے انس

جس طرح حضرت علیـ نے فرمایا تھا کہ علیـ کو موت سے ایسا ہی انس ہے جیساکہ دودھ پیتے بچے کو اپنی ماں کے شیر سے انس ہوتا ہے، اسی طرح علی اکبرـ نے بھی راہ کربلا میں امام حسینـ سے فرمایا تھا۔

ابو مخنف، عقبہ بن سمنان سے کہ جو واقعہ کربلا میں موجود تھے، مگر شہید نہیں ہوئے تھے، روایت نقل کرتے ہیں کہ راہ مکہ اور کربلا کے درمیان قصر بنی منازل میں یہ قافلہ ٹھہرا ہوا تھا کہ آپ امامـ کو نیند آگئی اور آپ نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ قافلہ وہ ہے کہ اس کے پیچھے ان لوگوں کی موت بھی چل رہی ہے۔ آپ خواب سے بیدار ہوئے اور تین مرتبہ انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا جناب علی اکبرـ جو قریب ہی میں تھے، پوچھ لیا کہ بابا یہ کلمۂ استرجاع آپ نے کیوں ادا کئے ...؟ امامـ نے اپنے خواب کا تذکرہ کردیا، آپ نے پوچھا کہ بابا! کیا ہم حق پر نہیں ہیں ...؟ امامـ نے فرمایا: بیٹا! ہم حق پر ہیں، ہم حق پر نہیںہوں گے تو کون ہوگا۔! جس پر آپ نے جواب دیا کہ بابا پھر ہم کو ڈر کس بات کا ہے، موت ہم پر آجائے یا ہم موت کو گلے لگالیں۔ امامـ نے یہ جملے سنے تو آپ دعائیں دیں۔

ابصار الحصین، ص٢٢؛ سخنان امام حسینـ، ص٣١٣؛ تاریخ طبری، ج٦، ص٢٣١۔

اس پورے خاندان میں موت کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ اس لئے کہ کردار کے اتنے بلند مقام پر تھے کہ جہاں ان کو موت حیات ابدی نظر آتی تھی اور دنیا کی زندگی ایک ضمنی زندگی سمجھتے تھے۔ جب اصحاب امامـ کو موت سے اتنا پیار تھا کہ ایک دوسرے پر سبقت کے لئے بے چین تھے تو اولاد امامـ کا تو بیان ہی نہیں ہے۔

کربلا میں آپ کی عمر شریف

اس بات میں کافی اختلاف ہے کہ آپ کی عمر کتنی تھی۔ آپ امام سجادـ سے بڑے تھے یا چھوٹے تھے ...؟ بعض کہتے ہیں کہ آپ امام سجادـ سے بڑے تھے اور یہ لوگ دلیل کے طور پر امام سجادـ کا وہ جملہ جو آپ نے دربار یزید میں فرمایا تھا، اس کو نقل کرتے ہیں:

''و کان لی اخ اکبر منی سمی علیا فقتلوہ۔''

جب یزید نے پوچھا کہ یہ مرد کون ہے تو درباریوں نے بتایا کہ علی ابن الحسین ہیں تو اس سنے کہا کہ مگر وہ کربلا میں مارے نہیں گئے؟! تو آپ نے یہ جملہ فرمایا کہ ''وہ میرے بڑے بھائی تھے، جن کو کربلا میں تم نے شہید کردیا ہے۔''

منتخب التواریخ، ص٢٦٩۔

علماء کی ایک بڑی جماعت اس بات کی قائل ہے کہ آپ کی عمر ١٨ سال سے زیادہ تھی، ٢٥ سال تھی، اس کے لئے کہ آپ کی ولادت زمانہ عثمان میں بتاتے ہیں۔

اور بعض مؤرخین جن میں شیخ مفید بھی ہیں، نے فرمایا ہے کہ آپ امام سجادـ سے چھوٹے تھے۔

کتاب الارشاد، شیخ مفید۔

سلیمان قندوزی نے بھی آپ کی عمر سترہ (١٧) سال بتائی ہے اور امام سجادـ کو آپ سے بڑا لکھا ہے۔

ینابیع المؤدة، طبع نجف، ص٤١٥۔

نیز مقتل امام حسینـ میں جواد محدثی نے بھی آپ کو اٹھارہ (١٨) سال کا لکھا ہے۔

ابو القاسم کوفی، علی بن احمد بن موسیٰ مبرقع نے روایت لکھی ہے کہ روز عاشور شہید ہونے والے علی، زندہ رہنے والے علی سے چھوٹے تھے۔

کتاب الاستغاثہ فی بدع الثلثہ۔

مذکورہ قول مشہور بھی ہے کہ جناب علی اکبر کربلا میں سترہ (١٧) سال سے لے کر انیس (١٩) سال تک کے تھے اور جو پچیس (٢٥) سال یا ستائیس (٢٧) سال یا تیس (٣٠) سال کے علی تھے، وہ امام سجادـ ہی تھے جو کہ منصب امامت پر فائز ہوئے اور کربلا میں شہید نہیں ہوئے۔

عازم میدان

اس بات میں بھی علمائے مقاتل میں کافی اختلاف ہے کہ علی اکبر کب شہید ہوئے۔؟ اس لئے کہ اکثر علمائے مقاتل نے آپ کو شہدائے بنی ہاشم کا پہلا شہید بتایا ہے اور دلیل کے طور پر زیارت ناحیہ میں امامـ نے جو سلام فرمایا، اس جملہ کو لاتے ہیں:

''السلام علیک یا اول قتیل من نسل سلیل من سلالة ابراہیم الخلیل۔''

مگر اس مذکورہ عبارت سے یہ بات بھی تو سمجھ میں آتی ہے کہ امامـ کی مراد پہلے نمبر پر شہید کی نہ ہو بلکہ مراد امامـ یہ ہو کہ مرتبہ اور شان میں اولیت رکھتے تھے، جیساکہ ہمارے یہاں بولا جاتا ہے کہ فلاں شخص شہر کے عالموں سے درجۂ اول کا عالم ہے لہٰذا یہ کہنا کہ آپ پہلے شہید تھے، صحیح نہیں ہے بلکہ علمائے مقاتل کی ایک جماعت نے عبد اللہ بن مسلم کو پہلا شہید بتایا ہے۔

جوامع التوایخ فی مقتل الحسینـ، ص١٧٩؛ روضة الشھید، ص٤١٩؛ فرسان الھیجائ، ج١، ص٣٠٠؛ اکلیل المصائب، ص٢٩٠ و ١٠٥۔

جب کربلا میں سوائے ستاون برس کے بوڑھے باپ اور اٹھارہ برس کے جوان بیٹے کے علاوہ کوئی نہ بچا تو علی اکبرـ آئے اور کہا: بابا! دشمنوں کے طعنہ نہیں سنے جاتے، اب اجازت دے دیجئے۔ امامـ یہ جملہ سنا تو علی اکبرـ کو نگاہ یاس سے دیکھا اور سر جھکا کر گریہ فرمانے لگے۔ بھر آپ نے علی اکبرـ کا ہاتھ پکڑا اور خیمہ میں لا کر دو زانو بیٹھ گئے اور فرمایا: علی اکبرـ! میدان کو جارہے ہیں یہ سننا تھا کہ تمام بیبیاں جمع ہوگئیں اور اس طرح گریہ ہوا کہ کربلا میں کسی شہید کے لئے اتنا گریہ نہیں ہوا اور علی اکبرـ خیمہ سے نکلنا چاہتے تھے مگر بیبیوں کی بے تابی دیکھ کر پھر رک جاتے تھے، اسی طرح سات مرتبہ آپ خیمہ سے نکلنے کے ارادے سے آگے بڑھے مگر ہر مرتبہ کسی نہ کسی بی بی نے دامن پکڑ لیا، علی اکبرـ ہم کو چھوڑ کر کہاں جارہے ہو ...؟! بالآخر آپ خیمہ سے باہر آئے اور امامـ سے فرمایا: بابا! پھوپھیوں نے اجازت دے دی ہے۔ امامـ نے علی اکبرـ کو پھر حسرت و یاس سے دیکھا اور اپنے دست مبارک سے آپ کو اسلحۂ جنگ پہنایا، آپ نے ایک زرہ کے اوپر دوسری زرہ پہنائی اور امام علیـ کا جنگی چرمی کمر بند آپ کی کمر میں باندھا اور فولادی خود، آپ کے سر پر رکھا اور عقاب نامی گھوڑے پر سوار کیا۔

روضة الشھید، ص٣٢٠؛ نور العین فی شھید الحسینـ، ص٤٠؛ اکلیل المصائب، ص٢١١۔

پھر آپ نے علی اکبرـ کو بنظر غایر دیکھا اور بروایت دمعة الساکبة کے آپ کی آنکھوں نے خون کے آنسو بہائے۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: خدا تو اس قوم پر گواہ رہنا کہ اب اس کے مقابل وہ جارہا ہے جو سیرت و صورت، رفتار و گفتار میں تیرے نبیۖ سے بہت زیادہ شبیہ تھا اور جب ہم لوگوں کو تیرے نبیۖ کی زیارت کا شوق ہوتا تھا تو اس کو دیکھ لیا کرتے تھے۔ خدایا! تو ان لوگوں سے زمین کی برکتیں اٹھالے، ان کی جمعیت کو پراگندہ کردے، ان کے حکام کو ہمیشہ ان سے ناراض و ناراحت رکھ کیونکہ ان ملعونوں نے وعدۂ نصرت کرکے ہم کو بلایا تھا اور اب ہمارے قتل پر آمادہ ہیں۔ پھر آپ نے ابن سعد کو پکار کر کہا: اے دشمن خدا! خدا تیرے رحم کو قطع کرے اور کسی امر میں تجھے برکت نہ دے اور تجھ پر ایسے بے رحم کو مسلط کرے جو تیرے فرش خواب پر تجھ کو ذبح کرے، جس طرح تو نے میرے رحم کو قطع کیا ہے اور قرابت رسولۖ کی میرے حق میں پرواہ نہ کی۔ اس کے بعد آپ نے باآواز بلند یہ آیت پڑھی:

(ان اللہ اصطفی آدم و نوحا و آل ابراھیم و آل عمران ... الیٰ آخر)

مروج الذہب، ص١٤٥؛ نور العین، ص٤٠، لہوف، ص٧١، جلاء العیون، ص٤٠٤۔

امامـ سے زیادہ پریشان جناب زینب٭ تھیں، اس لئے کہ آپ ہی نے علی اکبرـ کو پالا تھا۔ (ایک روایت کے مطابق) آپ بار بار در خیمہ پر آتی تھیں اور امامـ کے چہرہ کو دیکھتیں، پھر خیمہ میں جا کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیتی تھیں: خدایا! میرے اکبر کو سلامت رکھ مگر کربلا تو اہل بیت٪ کی قربان گاہ تھی، وہاں تو آل رسول٪، امتحان پر امتحان دے رہے تھے اور اسی امتحان کی کڑی یہ تھیں کہ جناب زینب٭ دعا کررہی ہیں مگر علی اکبرـ کو شہید ہونا ہے جبکہ جناب زینب٭ کو بھی یقین ہے کہ اب اکبرـ واپس نہ آئے گیں۔

المختصر آپ میدان میں پہونچے اور گھوڑے کو چاروں طرف گھومایا اور وسط میدان میں کھڑے ہوگئے، پھر مبارزہ طلبی کی مگر کسی روباہ میں کیا دم تھا کہ شیر علیـ کے مقابلے پہ آجائے، پھر سے مبارزہ طلبی کی مگر پھر کوئی نہیں نکلا، آپ نے رجز پڑھا:

''میں علی ابن حسین بن علی٪ ہوں۔ بیت اللہ کی قسم! قربت کے لحاظ سے نبیۖ سے قریب ترین ہم ہیں۔ خدا کی قسم! ایک بد کار اور ملعون انسان ہم پر حکومت نہیں کرسکتا۔ میں اپنے باپ کی حمایت میں اور دین کی خدا کا دفاع کرتے ہوئے، تلوار چلاؤں گا اور یہ ضرب ایک ہاشمی اور قریش کی ہوگی۔ اگر کوئی ہے میرے مقابلہ میں تو آئے۔

بحار الانوار، ج٤٥، ص٤٣؛ روضة الشھدائ، ص٤٢؛ فرسان الھیجائ، ص٣٠٢؛ اعیان الشیعہ، ج٨، ص٢٠٦۔

پھر آپ شیر غضب کی مانند لشکر کفار کے درمیان گھس گئے اور میسرہ کو میمنہ پر اور میمنہ کو میسرہ پر پلٹ دیا۔ قلب لشکر پر حملہ کرتے تھے، دشمن مثل ہرن میدان چھوڑ کر بھاگ جاتے تھے۔ جس طرف حملہ کردیتے تھے، سینکڑوں کو واصل جہنم کردیتے تھے، اسی طرح لڑتے لڑتے آپ نے پہلے حملہ میں ایک سو پینتالیس (١٤٥) کفار کو واصل جہنم فرما دیا۔

روضة الشھدائ، ص٤٢١۔

سید ابن طاوؤس نے لہوف کے صفحہ بہتر (٧٢) پر لکھا ہے کہ آپ نے پہلے حملہ میں گروہ اعداء کے ایک کثیر گروہ کو فی النار و السقر کیا۔

سلیمان قندوزی نے ینابیع المؤدة کے صفحہ چار سو پندرہ (٤١٥) پر لکھا ہے کہ آپ نے پہلے حملہ میں اسی (٨٠) ناریوں کو قتل کیا۔ ایک قول کے مطابق ستر (٧٠) کو پہلے حملہ میں واصل جہنم کیا۔

مناقب آل ابی طالب٪، ص٥٨٦۔

مقتل ابی مخنف نے ایک سو اسی (١٨٠) کی تعداد پہلے حملہ میں بتائی ہے اور صاحب نور العین نے صفحہ پینتالیس (٤٥) پر لکھا ہے کہ آپ نے کلاً پانچ سو (٥٠٠) سواروں کو واصل جہنم کیا۔

مقتل ابی مخنف، ص١٥٤۔

علی اکبرـ میدان سے واپس

اس کے بعد جناب علی اکبرـ میدان سے واپس پلٹ آئے اور آ کر امامـ سے فرمایا: بابا! پیاس کی شدت سے کلیجہ بھنا جارہا ہے، اگرممکن ہو تو ایک گھونٹ پانی پلا دیں تو میں لشکر اعداء کو بتادوں کہ ہاشمی جنگ کیسے کرتے ہیں ...؟ امامـ نے جب یہ سنا تو زار و قطار رونے لگے اور فرمایا: اے بیٹے! رسول اکرمۖ اور علیـ اور مجھ پر یہ بہت شاق گذرا ہے کہ تو سوال کرے اور میں اس کو پورا نہ کرسکوں، تو فریاد کرے اور تیری فریاد کو نہ پہنچ سکوں۔ اے بیٹے! لاؤ اپنی زبان میرے منھ میں دے دو، شاید کچھ پیاس کی شدت میں کمی آجائے، جناب علی اکبرـ نے زبان دے دی مگر فوراً واپس کھینچ لی۔ امامـ نے انگشت مبارک اتار کر علی اکبرـ کے منھ میں رکھ دی اور کہا: بیٹا! امید ہے کہ بہت جلد نانا رسول خداۖ اور بابا علیـ آب کوثر سے سیراب کریں گے۔

قارئین محترم! علی اکبرـ جیسا معصوم صفت انسان کامل یہ جانتا تھا کہ بابا کے پاس پانی نہیں ہے پھر سوال آب کیوں کیا ...؟ اس کا جواب یہ ہے کہ امامـ سے علی اکبرـ کا سوال آب پانی کے لئے نہیں تھا، بلکہ اپنی اور اپنے بابا کی پیاس کا اعلان تھا کہ دیکھو! مجھ سے زیادہ میرا بابا پیاسا ہے اور پھر خیمہ میں وہ چھوٹے چھوٹے بچوں کا کیا حال ہوگا کہ جو پیاس سے جاں بلب ہیں مگر ہم اہل بیت٪ دین کی خاطر یہ سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں، مگر دین کو ایک فاجر و فاسق حکمران کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے۔ جناب علی اکبرـ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو کربلا میں معجزہ کے ذریعہ پانی حاصل کرسکتے ہیں۔ اتنی قوت ہے کہ نہر فرات سے پانی حاصل کرسکتے ہیں مگر ہم اپنی مظلومی کو ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ دشمن نے ہم پر پانی تک بند کردیا تھا۔

جناب علی اکبرـ دوبارہ میدان میں واپس آئے اور فوج اشقیاء کے سامنے اس طرح رجز خوانی فرمائی:

جنگ کی حقیقت آشکار و واضح ہوچکی ہے اور جو اس کے مصداق تھے، سامنے آگئے۔ واللہ جب تک تلوار کی بجلیاں تم کو جھلسا نہ دے گیں، ہم تم پر حملہ کرتے رہے گیں۔

بحار الانوار، ج٤٥، ص٤٣ و ٤٤۔

آپ کے اس رجز کا یہ مطلب ہے کہ جھوٹے اور سچے، بہادر اور بزدل، آخرت طلب اور دنیا طلب جدا ہوگئے۔

اس کے بعد آپ نے ایک دوسرا جملہ کہا اور سخت جنگ ہوئی۔ آپ جدھر رخ پھیر دیتے تھے، لاشوں کے انبار اپنے پیچھے چھوڑ آتے تھے، یہاں تک کہ اسی (٨٠) ناریوں کو واصل جہنم فرما کر ذرا دیر کے لئے رکے اور مبارزہ طلب  کیا۔ عمر بن سعد نے طارق بن مثبت کو کہا کہ جا کر اس جوان کا کام تمام کردے اور سر لے کر واپس آ۔ میں تیرے لئے مراقہ اور موصل کی حکومت ابن زیاد سے حاصل کروں گا۔ اس نے کہا کہ میں تو فرزند رسولۖ کو ضرور قتل کروں گا، مگر ڈر ہے تو اپنا وعدہ پورا نہیں کرے گا۔ جس کے جواب میں اس نے انگوٹھی لی اور روانہ ہوگیا۔ میدان آ کر علی اکبرـ پر نیزہ کا وار کیا مگر آپ نے اس کے وار کو خالی جانے دیا اور پھر اس زور سے آپ نے نیزہ سے اس پر وار کیا کہ نیزہ سینہ سے ہو کر پشت کی طرف سے نکل گیا اور وہ موصل و مراقہ کی حکومت کا خواب لے کر واصل جہنم ہوگیا۔ اس کے فوراً بعد اس کا لڑکا عمر ابن طارق میدان میں آیا اور اس کے ہاتھوں واصل جہنم ہوگیا۔ اس کے بعد طلحہ بن طارق اپنے باپ اور بھائی کے غم میں غصہ سے لال پیلا ہو کر میدان میں نکلا اور غصہ سے بے قابو ہو کر حملہ کردیا۔ جناب علی اکبرـ نے ایک ہی وار سے اس کی تلوار کو زمین پر گرا دیا اور گردن سے پکڑ کر اس کو زمین پر پٹک دیا کہ اس کی ہڈیاں تک ٹوٹ گئیں۔ یہ حال باقی لشکر والوں نے دیکھا تو علی اکبرـ کی ہیبت و شوکت سے مرعوب ہو کر بھاگنے پر آمادہ ہوگئے مگر عمر سعد نے مصراع ابن غالب کو کہا کہ جا کر اس کا کام تمام کردے۔ وہ میدان میں آیا اور آ کر نیزہ سے وار کیا آپ اس کا وار خالی جانے دیا اور تلوار سے اس شدت سے کا وار کیا کہ سر سے زین تک کٹتا چلا گیا۔ اس کے بعد عمر ابن سعد نے ایک جملہ کہا کہ ہاشمیوں سے اگر ایک ایک کرکے لڑوگے تو ہم سب مارے جائیں گے۔ یہ کہہ کر اس نے محکم اور طفیل (یہ دونوں باپ بیٹے تھے) کو بلایا اور دونوں کو ایک ایک ہزار سوار دے کر روانہ کیا کہ اس جوان کا کام تمام کرو۔ علی اکبرـ نے ایک مرتبہ تکبیر بلند کی کہ سارا مقتل کانپ اٹھا پھر آپ نے اس شدت سے حملہ کیا کہ قلب لشکر میں بیخ گئے اور چاروں طرف حملہ کرکے دونوں سپاہیوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔

ابھی آپ جنگ میں محو تھے کہ مرہ بن منقد نے چھپ کر نیزہ کا وار کیا کہ آپ کے سینۂ مبارک میں در آیا۔ آپ اس وار کو برداشت نہ کرے اور گھوڑے کی پشت پر جھومنے لگے بس اسی وقت ابن نمیر نے آ کر سر پر گرز کا وار کیا۔ آپ گھوڑے سے نیچے زمین پر تشریف لائے۔

لہوف، ص٧٢؛ مناقب ابن شہر آشوب، ص٥٨٦؛ کبریت احمر، ص١٨٥؛ جلاء العیون، ص٤٠٥؛ ارشاد، ص٢٣٩۔

آپ نے گھوڑے سے گرتے گرتے پکارا: بابا! میرا آخری سلام قبول ہو، حسینـ کے کان میں جب یہ آواز آئی، آپ کے سامنے دنیا اندھیر ہوگئی اور عجیب دکھ بھری آواز میں ارشاد فرمایا: ''علی الدنیا بعدک العقائ'' ادھر دشمنوں نے علی اکبرـ کو گھیر لیا اور تلوار کے وار سے آپ کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے شروع کردیئے۔

کتاب ارشاد، ص١١٠؛ تاریخ امم و ملوک، ج٤، ص٢٩١۔

بہن بھائی سے پہلے

جناب زینب٭ جو علی اکبرـ کی رخصتی کے بعد ہی سے امامـ کے پاس تھیں اور ان کا چہرہ دیکھ رہی تھی جب آواز علی اکبرـ آئی تو امامـ کمر پکڑ کر بیٹھے اور نوحہ کیا تو جناب زینب٭ بے تاب ہو کر خیمہ سے نکلیں اور مقتل میں بیخ گئیں، علی اکبرـ کے پاس پہنچ کر خود کو علی اکبرـ کے اوپر گرا دیا اور فریاد کر رہی تھیں۔

فرسان الھیجائ، ج١، ص٣٠٥؛ از ارشاد مفید و بحار الانوار۔

جوان کی میت پر بوڑھا باپ

امامـ کمر کو پکڑے ہوئے، چاروں طرف نگاہ کررہے ہیں اور آواز دے رہے ہیں، علی اکبرـ کدھر ہو، آواز دو۔ تیرے باپ کو دکھائی نہیں دیتا۔ بیٹا! آواز دو کدھر ہو، گرتے تھے، اٹھ جاتے تھے، پھر بیٹھ جاتے تھے اور صدا دیتے تھے، بیٹا! کدھر ہو آواز دو پھر جب آپ سے نہ چلا گیا تو ششماہے بچوں کی طرح گھٹنیوں کے بل چل کر بیٹے کو تلاش کرنے لگے کہ ناگہان علی اکبرـ کا گھوڑا آیا اس نے بیٹھ کر آپ کو پشت پر سوار کیا اور علی اکبرـ کی لاش پر لے کر آیا، اب جو باپ نے جوان بیٹے کو اس حالت میں دیکھا تو برداشت نہ کرے، فرمایا: بیٹا! تم کو کس نے اس حال کو پہونچایا۔ کیا تجھے قتل کرنے والوں میں کوئی صاحب اولاد نہیں تھا، پھر نگاہ پڑی جناب زینب٭ پر (حوالۂ مذکور کے تحت) تو فورا! کچھ دیر کے لئے بیٹے کا غم بھول گئے اور کہا بہن زینب٭! خیمہ میں واپس چلی جاؤ! پھر آپ بیٹھ گئے اور کہا بیٹا! کہاں تکلیف ہے۔ کہا: بابا نیزہ سینہ میں ٹوٹ گیا اور باپ نے دیکھا کہ نازنین سینہ میں نیزہ کا پھل پھنسا ہوا ہے۔ ایک مرتبہ ساری قوت جمع کی آواز دی نجف والے علیـ مدد کو آؤ، دادا ابراہیمـ تم نے آنکھ پر پٹی باندھی تھی، میں نے نہیں باندھی دیکھ لو آ کر پھر سینۂ علی اکبرـ میں ہاتھ کو ڈال کر یا علی کہہ کر نیزہ کا پھل کھینچا، نیزہ کے پھل کے ساتھ علی اکبرـ کا کلیجہ بھی نکل آیا۔ بیٹا، باپ کے سامنے دم توڑ گیا۔ حسینـ وہیں بیٹھ گئے۔

روضة الشھدائ، ص٤٢٥؛ جامع التواریخ، ص١٩٠؛ شہدائے انقلاب کربلا، ص٢٤، فرسان الھیجائ، ج١، ص٣٠٥۔



منابع: الاحتجاج ،بحارالانوار ، ینابیع المودۃ۔روضۃ الشھداء
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها آل ابی طالب ، شھداءکربلا، زندگی نامہ

مطالب مشابه


1
اربعین عطش‎‎های پرپر
کاروان خاطرات، بازگشته است از جایی که چهل روز گذشته است از ماتم‎های سرخ، از عطش‎های پرپر شده است
 1395/04/27
2
پژوهشی در اربعین حسینی(علیه السلام)
محسن رنجبر. حضور اهل بیت(علیهم السلام) در اولین اربعین شهادت امام حسین(علیه السلام) بر سر مزار آن حضرت در کربلا از مسائلی است که در قرون اخیر برخی محققان شیعه درباره آن تشکیک کرده اند. در مقابل، برخی دیگر از اندیشمندان، درصدد رد این تشکیک و اثبات اربعین اول شده اند. این نوشتار ابتدا به دلایل منکران اربعین اول پرداخته و در ادامه به پاسخ گویی آن ها می پردازد، سپس با استفاده از قراین و شواهد دیگر، دیدگاه موافقان اربعین اول را تأیید می کند.
 1395/04/27
3
تحقیقی در باره اربعین حسینی
مسئله اربعین سید الشهداء(علیه السلام) و این که آیا خاندان آن حضرت پس از رهایی از اسارت یزید قصد عزیمت به کربلا را داشته و نیز آیا توانسته اند در آن روز به زیارت آن مضجع شریف نایل آیند و مرقد مطهرش را زیارت کنند، از جمله مسائلی است که از دیرباز صاحب نظران در باره آن اختلاف نظر داشته و هریک با استشهاد به ادله تاریخی برای اثبات یا نفی آن تلاش کرده اند
 1395/04/27

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات