ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کی تعداد

چاپ
تعداد شھدائے کربلا

باسمہ تعالیٰ

اصحاب امام حسینـ

تعداد شہدائے کربلا

لشکر امام حسینـ اور یزید ملعون

واقعۂ کربلا کے راوی علیٰ الظاہر فوج یزید سے ''حمید ابن مسلم'' اور فوج امام حسینـ سے ''امام سجاد اور امام محمد باقر یا خواتین جو کربلا موجود تھیں'' ہیں یا پھر خود دشمنان حسینـ نے خود یا جناب مختار کے قیام کے دوران یزیدیوں نے جن باتوں کا اقرار کیا ہے، وہ مؤرخین نے لکھا اور ہمارے ائمہ٪ نے بالخصوص امام چہارم و پنجم یا خواتین مثلاً جناب زینب٭ نے مصائب بتائے وہ یا تو دبا دیئے گئے یا ان کو مواد لکھے جا چکے تھے، ان کو جلا دیئے گئے۔

یہ وجہ ہے کہ واقعۂ کربلا کے سلسلہ میں مؤرخین کے درمیان کافی اختلاف ہے اور انہیں اختلافات میں سے ایک بڑا اختلاف تعداد فوج امام حسینـ اور تعداد فوج یزید ملعون ہے۔ بعض مؤرخین نے امامـ کی فوج کو بہتر (٧٢) تک ہی محدود کیا ہے۔ (جس کا ابھی ہم تفصیلی ذکر کریں گے) ان لوگوں نے صرف کربلا میں صبح عاشور سے لے کر عصر عاشور تک کے شہداء کو مانا ہے اور جو لوگ اس تعداد سے زیادہ کے قائل ہیں۔ ان لوگوں نے ہر اس شہید کو شہدائے کربلا کے زمرے میں شمار کیا ہے جو بالواسطہ یا بلا واسطہ جنگ کربلا سے منسلک تھے، مثلاً مسلم ابن عقیل کربلا میں نہیں شہید ہوئے مگر امامـ نے سفیر کی حیثیت سے آپ کو کوفہ روانہ کیا تھا اور یہ مقدمہ تھا کربلا کا یا یتیمان مسلم کی شہادت یا اسی طرح بوض نصرانی دربارہ کوفہ و شام میں مسلمان ہوئے کر یزید ملعون پر نفرین کرنے لگے تو یزید نے ان کو قتل کروایا یا پھر وہ بچے جو عصر عاشور خیام کی تاراجی میں شہید ہوئے یا راہ کوفہ و شام میں شہید ہوئے اور بعض مؤرخین نے عورتوں کو بھی شہداء کے اسی زمرے میں شمار کیا ہے جیساکہ صاحب معالی السبطین نے لکھا کہ صرف خاندان آل ابی طالب٪ سے بیالیس (٤٢) مستورات اور اٹھائیس (٢٨) مرد شہید ہوئے ہیں۔ جس کی تفصیل آئندہ مع اسماء کے ذکر کی جائے گی۔ جو لوگ بہتر (٧٢) کے قائل ہیں، ان کا نظریہ یہ ہے کہ بہتر (٧٢) وہ جو مدینہ سے امامـ کے ساتھ چلے تھے یا بہتر (٧٢) وہ جو مکہ سے امامـ کے ساتھ ہوگئے تھے۔

تعداد شہدائے کربلا باختلاف راویان

لہوف صفحہ ١٠٠ سید ابن طاوؤس:

امام محمد باقرـ سے روایت ہے:

''کربلا میں میرے جد کے اصحاب ایک سو پینتالیس (١٤٥) تھے، جن میں سے پینتالیس (٤٥) سوار اور سو (١٠٠) عدد پیادہ تھے۔''

منتہی الآمال جلد ٢، صفحہ ٢٤٨:

صاحب کتاب تحریر فرماتے ہیں:

''بعض ارباب مقاتل نے لکھا ہے کہ بتیس (٣٢) نفر سوار اور چالیس (٤٠) نفر پیادہ تھے۔ بروایت دیگر بیاسی (٨٢) نفر پیادہ تھے۔''

ابصار العین فی انصار الحسینـ:

فرماتے ہیں:

''مؤرخین کے ایک گروہ نے ایک سو بارہ (١١٢) نفر بتایا تھا۔''

علمائے معاصرین صفحہ ٢٦٩، مرحوم خیابانی نے نقل کیا ہے:

''روز عاشور جو لوگ امامـ کے ساتھ شہید ہوئے، جھوٹے بڑے ہاشمی اور غیر ہاشمی، سب کو ملا کر ایک سو ایکہتر (١٧١) نفر تک تعداد پہنچ جاتی ہے۔

علامہ مجلسی صاحب بحار الانوار قائل ہیں:

''امامـ کا لشکر چالیس (٤٠) پیادہ اور بتیس (٣٢) سواروں پر مشتمل تھا۔''

محمد بن ابی طالب، بتیس (٣٢) سوار اور بیاسی (٨٢) پیادہ کے قائل ہیں۔

سید رضی الدین ابن طاوؤس نے کتاب اقبال میں جو زیارت بنام زیارت قائمیہ لکھی ہے اس کے لحاظ سے شہدائے کربلا کی تعداد اسی (٨٠) تک پہنچی ہے۔

طبرسی نے کہا:

''لشکر امامـ تینتیس (٣٣) سوار اور چالیس (٤٠) پیادہ افراد پر مشتمل تھا۔''

ابن جوزی نے امامـ کے فوج و فداکار کی تعداد ستر (٧٠) نفر سوار اور سو (١٠٠) نفر پیادہ بتائی ہے۔

مسعودی نے مروج الذہب میں امامـ کے لشکر کی تعداد کچھ اس طرح بیان کی ہے:

''ہزار (١٠٠٠) نفر سوار اور سو (١٠٠) نفر پیادہ تھے۔''

اور سب سے زیادہ پوچ روایت یہی ہے، جس کا سوائے اس کے ان دونوں کے اور کوئی بھی قائل نہیں ہے اور عقلاً بھی محال ہے، کیونکہ وہ روایت جو پہلے حملہ والی ہے اس میں اکثر مؤرخین نے لکھا ہے کہ پچاس (٥٠) یا باون (٥٢) افراد شہید ہوئے تھے، باقی میدان جنگ میں لڑ کر شہید ہوئے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی دن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایک ایک کرکے جاتے شہید ہوتے، امامـ اس کا لاشہ اٹھا کر مقتل سے خیمہ میں لاتے یہ روایت عقلاً محال ہے۔ (اس نے شرح شافیہ ابی فراس بن مناقب آل رسولۖ و مہتالب بنی عباس سے روایت نقل کی ہے اور یہ اس لئے لکھی ہے تاکہ امامـ کی مظلومیت میں کمی آجائے)۔

کتاب عوالم میں عبد اللہ بن نوری نے بتیس (٣٢) سوار اور چالیس (٤٠) پیادہ بتایا ہے۔

جبکہ یافعی نے مرأة الجنان میں سوار اور پیادہ کل ملا کر بیاسی (٨٢) نفر بتایا ہے۔

طبری نے لشکر امام حسینـ کی تعداد چالیس (٤٠) سوار اور سو (١٠٠) پیادہ بتائی ہے۔

مناقب ابن شہر آشوب اور شیخ مفید نے ارشاد میں روایت لکھی ہے:

''اصحاب امام حسینـ جو کربلا میں شہید ہوئے، ان کی تعداد بہتر (٧٢) تھی، بتیس (٣٢) سوار اور چالیس (٤٠) پیادہ۔''

اور یہی روایت مؤرخین اور ارباب مقاتل کے درمیان مشہور ہے اور اکثر علمائے متأخرین نے اسی قول کو صحیح قرار دیا ہے۔

تذکرة الائمہ٪ میں محمد باقر بن محمد تقی لاہیجی کا نظریہ یہ ہے:

''امامـ کی فوج بہتر (٧٢) نفر پر مشتمل تھی لیکن حر اور ان کے بیٹے کو ملا کر چوہتر (٧٤) نفر ہوجاتی ہے۔''

روضة الصفا کے مطابق امامـ کے اصحاب اور متعلقین کی کل تعداد بہتر (٧٢) نفر تھی جو کربلا میں شہید ہوئے۔ عبد اللہ بن نور اللہ کتاب عوالم جلد ١٧، عبد اللہ بن محمد رضا الحسنی جلاء العیون (یہ کتاب بھی مذکورہ مصنف ہی کی ہے اس کا نام بھی جلاء العیون ہے جو کہ علامہ مجلسی کی کتاب جلاء العیون سے علیٰحدہ ہے)، محبوس مقدری نے زبدة الفکرہ و الحرہ میں مذکورہ قول کا اپنایا ہے۔

تعداد شہدائے آل ابی طالب٪

یوں تو ہمیشہ ہی سے اسلام کو اگر کسی نے بچایا ہے اور سہارا دیا ہے تو وہ آل رسول٪ ہی تھے، آل ابی طالب٪ ہی تھے۔ دعوت ذوالعشیرہ سے لے کر عصر عاشور تک اور عصر عاشور سے لے کر آج تک اسلام کو اگر کسی کا سہارا ہے تو اولاد زہرا کا یوں تو اصحاب رسول و ائمہ٪ کی تعداد کسی لحاظ سے کم نہیں تھی مگر ...۔

مال اسلام نے بانٹا تو ہزاروں نکلے خون اسلام نے مانگا تو بہتر (٧٢) نکلے

رسول اسلامۖ کی زندگی کی جنگیں ہوں یا پھر رسول اسلامۖ کے بعد کی جنگ اگر کسی نے اس میں نمایاں کردار ادا کیا ہے تو اس میں بالواسطہ یا بلا واسطہ اولاد ابی طالب٪ کا ہاتھ رہا ہے اور جب ٦٠.ھ کا دور آیا تو اسلام کی تاریخ کا تاریک ترین دور تھا۔ جب یزید جیسا فاسق و فاجر تخت حکومت اسلامی پر سر براہ بن بیٹھا، جس کے لئے تاریخ گواہ ہے کہ شراب خور، زنا کار، حلال محمدی کو حرام اور حرام محمدی کو حلال کرنا، اس کے لئے کوئی عار نہیں تھا۔ ایسے حالات میں جب اسلام سسکیاں لے رہا تھا، جب اسلام پکار رہا تھا کہ ہے کوئی جو دین محمدۖ کو بچائے تو پوری کائنات ساکت و صامت، دم بخود کھڑی تماشائی تھی کہ اتنے میں اسلام کا صحیح وارث اٹھ کھڑا ہوا ور یہ کہتا ہوا کہ اے دین محمدۖ! اگر میرے قتل کے بغیر تو کامیاب و قائم نہیں رہ سکتا تو اے تلواروں آؤ اور حسینـ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو! اسی عزم و حوصلہ کو لے کر نہ صرف تنہا حسینـ بلکہ آل ابی طالب٪ کی مایہ ناز فردیں حسینـ کے ساتھ تھیں۔ خواتین آل ابی طالب٪ بھی ہمراہ تھیں اگر بزرگ تھے تو چھ ماہ کا بچہ بھی ساتھ تھا۔

واقعات کربلا کے جہاں بہت سے پہلو تاریخ کی صحیح نشان دہی نہ ہونے کی وجہ سے اختلافی ہوگئے ہیں، وہیں ایک مسئلہ یہ بھی اختلاف کی نذر ہوگیا کہ آل ابی طالب٪ کی کربلا میں تعداد کتنی تھی؟ ہم نے جو تحقیق و مطالعہ کیا ہے اس کا خلاصہ متعدد کتاب سے قارئین کی نذر ہے۔

ابو الفرج اصفہانی لکھتے ہیں:

''کربلا میں اولاد ابی طالب٪ کی تعداد بائیس (٢٢) تھی، جو شہید ہوئے۔ امام محمد باقرـ سے ابن نما نے نقل کی ہے کہ کربلا میں سترہ (١٧) نفر ایسے شہید ہوئے ہیں کہ جو بطن فاطمہ بنت اسد٭ سے تھے۔''

اور اسی مذکورہ روایت کو حسن بصری ے بھی نقل کیا ہے کہ کربلا میں آل ابی طالب٪ کی تعداد بائیس (٢٢) نفر پر مشتمل تھی۔

اور ایک دوسری روایت میں حسن بصری سے ہے دیگر اسانید کے ساتھ کہ امام حسینـ کے ساتھ ان کے رشتہ دار سولہ (١٦) افراد تھے جو کربلا میں شہید ہوئے ہیں۔

بحار الانوار اور مناقب ابن شہر آشوب نے اولاد ابی طالب٪ کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے:

''اولاد عقیل سے سات (٧) افراد (جناب مسلم، جناب جعفر، جناب عبد الرحمن، محمد، عبد اللہ، جعفر بن محمد بن عقیل اور محمد بن سعید بن عقیل)تھے۔''

صاحب مناقب نے ''عون و محمد'' کو اولاد عقیل میں اضافہ کیا ہے یعنی اولاد عقیل سے کربلا میں شہید ہونے والے نو (٩) افراد تھے۔

تین (٣) افراد جناب جعفر طیار کی اولاد سے تھے، (عون ابن جعفر، محمد بن جعفر اور عبد اللہ بن جعفر)۔

نو (٩) افراد اولاد حضرت علیـ سے تھے، (امام حسینـ، جناب عباسـ، عمر، عثمان، جعفر، ابراہیم، عبد اللہ اصغر، محمد اصغر، شہادت ابو بکر بن علیـ کے بارے میں کافی اختلاف ہے)۔

چار (٤) افراد امام حسنـ سے تھے، (ابو بکر، عبد اللہ، جناب قاسم اور بشر)۔

باختلاف روایت خود امام حسینـ کی اولاد کی تعداد چھ افراد پر مشتمل تھی، (جناب علی اکبر، ابراہیم، جناب عبد اللہ، محمد حمزہ، علی اصغر اور جعفر) صاحب مناقب نے صرف علی اکبر اور عبد اللہ کو شہداء میں شمار کیا ہے۔

زیارت ناحیہ میں اولاد ابی طالب٪ کی تعداد انیس (١٩) بتائی گئی ہے اور اسی روایت کو صاحب مناقب نے اپنے لئے سند قرار دیا ہے یعنی صاحب مناقب نے جو تعداد معین کی ہے وہ شائد زیارت ناحیہ سے ہی لے کر معین کی ہے۔

صاحب معالی السبطین نے اولاد ابی طالب٪ کی تعداد ستر (٧٠) بتائی ہے جو کربلا میں شہید ہوئے ہیں اور بہت تفصیل سے تمام شہداء کے اسمائے گرامی بھی نقل کئے ہیں، جن میں مستورات بھی شامل ہیں اور بچے بنی شامل ہیں۔ تفصیل کے لئے ''معالی السبطین فی احوال الحسن و الحسین'' کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔

لشکر یزید لعنة اللہ علیہ کی تعداد

اس امر میں بھی کافی اختلاف ہے کہ یزید کے لشکر کی تعداد کربلا میں کتنی تھی۔ اس سلسلہ میں بھی ہم مختلف مؤرخین کی رائے قارئین کی نذر کررہے ہیں۔

اس سلسلہ میں صاحب ناسخ التواریخ تحریر فرماتے ہیں:

''مسلم بن عقیل کی جنگ کے بعد یزیدیوں نے یہ بات خوب سمجھ لی تھی کہ ہاشمی گھرانے اور اصحاب حسینـ کے لئے کثیر تعداد میں افراد جمع کرنے ہوں گے اسی لئے جتنے بھی ملک اور شہر یزید کے تحت حکومت تھے، سب کو نامہ لکھا گیا تھا کہ وہ وہاں سے اپنے لشکر لے کر کوفہ کی طرف روانہ ہوجائیں اور اسی طرح زعمائے عرب اور قبائل عرب کے پاس بھی نامہ بھیجے گئے تھے کہ وہ اپنے اپنے لشکر کوفہ کی طرف روانہ کردیں۔

مقتل ابی مخنف نے لشکر یزید حرام زادے کی فوج کو پچاس(٥٠) ہزار تک بتایا ہے جس میں سوار و پیادہ سبھی شامل تھے، بعض ابو مخنف کے مقاتل کے سخنوں میں ستر (٧٠) ہزار کی تعدد بھی بتائی گئی ہے، جس میں کوئی بھی شامی اور حجازی نہیں تھا بلکہ سب کے سب کوفی تھے۔

بعض نے بیس (٢٠) ہزار بتایا ہے اور بعض نے ایک لاکھ بیس ہزار اور بعض نے ایک لاکھ تیس ہزار، بعض نے ایک لاکھے اسی ہزار کی تعداد بتائی ہے۔ جلاء العیون میں بائیس (٢٢) ہزار کی تعداد نقل کی گئی ہے۔ صواعق محرقہ میں ابن حجر نے بیس (٢٠) ہزار کا لشکر بتایا ہے۔

امالی شیخ صدوق میں بروایت معصومـ لشکر یزید کی تعداد تیس (٣٠) ہزار سوارہ اور پیادہ پر مشتمل بھی اور علمائے مؤرخین کا اجماع اسی عدد پر ہے اور اسی روایت کو علماء نے مؤثق اور مشہور جانا ہے۔

محمد بن اسماعیل بخاری نے چالیس (٤٠) ہزار نفر بتائے ہیں جبکہ سید ابن طاؤوس نے ایک لاکھ کی تعداد بتائی ہے۔

بلاذری نے انساب جلد ٣، صفحہ ١٧٦ پر اس طرح لشکر یزید کی تعداد معین کی ہے کہ کربلا میں سرداران لشکر کتنے کتنے لشکر لے کر آئے تھے۔

عمر ابن سعد ابن ابی وقاص، چار ہزار؛ حر ابن یزید یمنی، چار ہزار؛ حجار ابن ابجر بجلی، ایک ہزار؛ اشعث بن ربعی، ایک ہزار؛ حر ابن یزید ریاحی، ایک ہزار؛ شمر بن الجوش، چار ہزار؛ حصین بن نمیر، چار ہزار؛ نصر بن فلاں، دو ہزار؛ کل اکیس (٢١) ہزار کا لشکر عبید اللہ ابن زیاد نے عمر سعد کی طرف روانہ کر کے اس کو لکھا کہ میں اتنا بڑا لشکر تمہاری طرف تمہاری مدد کے لئے روانہ کردیا ہے، اب تمہارے لئے عذر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جتنی جلد ممکن ہوسکے کام کو تمام کرو اور ہر ہر لمحہ کی خبر مجھ تک پہونچاتے رہو۔

تذکرة الخاص الامة فی معرفة الائمة لابن جوزی نے چھ ہزار کا ذکر کیا ہے۔ مطالب السوال میں بائیس (٢٢) ہزار کی فوج کا تذکرہ ہے۔

اوپر ایک قول علامہ سید ابن طاؤوس کی روایت کی گئی ہے مگر اس سے ہٹ کر علامہ طاؤوس نے ایک روایت اور نقل کی ہے، مقتل لہوف صفحہ ٥١ پر کہ چھ (٦) محرم تک عمر سعد کے لشکر کی کل تعداد تین ہزار تک پہنچ گئی، اس کے بعد بھرتی بند ہوگئی۔

جو لوگ ایک لاکھ تک کہ قائل ہیں، مثلاً سید ابن طاؤوس وغیرہ ممکن ہے کہ ان کا خیال اور نظریہ یہ رہا ہو کہ چونکہ جناب مسلم سے جنگ کے بعد ان لوگوں کو خطرہ ہوگیا تھا لہٰذا فوج کی تعداد بڑھاتے رہے، یہاں تک کہ ایک لاکھ سے زائد ہوگئی مگر کربلا سب کو نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو ذخیرہ میں رکھا گیا کہ اگر ضرورت پڑجائے تو ان کو فوراً بھیج دیا جائے۔ بعض نے ایک لاکھ کی تعداد لکھی ہے تو تفصیل اس طرح بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو کوفہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے وہ بھی اسی یزیدی فوج کے تنخواہ دار تھے اور جہاں جہاں تک یزید کی حکومت کا دائرہ تھا۔ شام سے جو لشکر آیا اس کے علاوہ باقی بھی بچا لیا گیا کہ اگر ضرورت ہوئی یا اہل بیت٪ کے چاہنے والوں نے شہادت حسینـ کی خبر سن کر اگر انتقام کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے مقابلہ کرنے کے لئے وہیں کی فوج ان سے نمٹ لے، اس طرح سے لاکھ والی روایت صحیح ہوسکتی ہے اور یقینا ایسا ہی ہوا ہوگا۔

حملۂ اول میں شہید ہونے والے

بروایت ابن شہر آشوب و ناسخ التواریخ نعیم بن عجلان، عمران ابن کعب حارث اشجعی، حنظلہ بن عمر، قاسط بن زہیر، کنانہ بن عتیق، عمر بن مشعیہ، ضرغامہ بن مالک، عامر بن مسلم، سیف ابن مالک، عبد الرحمن بن عبد اللہ ارجی، مجمع العائزی، حباب بن حارث، عمرو بن الجندعی، حلاس بن عمرو، سوار بن ابی عمیر، عمار بن ابی سلامہ، نعمان بن عمر، زاہر بن عمرو، غلام بن الحمق، حیلہ بن علی، مسعود بن حجاج، عبد اللہ بن عروہ، زبیر بن بشیر، عمار بن حسان، عبد اللہ بن عمیر، مسلم بن کنیز زہیر بن سلیم، عبد اللہ و عبید اللہ اور پسران زید اجری۔



منابع: مقتل لھوف ، ابن شھر آشوب ، ناسخ التوریخ
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها اصحاب، شھداء ، کربلا ، امام حسین

مطالب مشابه


1
اربعین عطش‎‎های پرپر
کاروان خاطرات، بازگشته است از جایی که چهل روز گذشته است از ماتم‎های سرخ، از عطش‎های پرپر شده است
 1395/04/27
2
پژوهشی در اربعین حسینی(علیه السلام)
محسن رنجبر. حضور اهل بیت(علیهم السلام) در اولین اربعین شهادت امام حسین(علیه السلام) بر سر مزار آن حضرت در کربلا از مسائلی است که در قرون اخیر برخی محققان شیعه درباره آن تشکیک کرده اند. در مقابل، برخی دیگر از اندیشمندان، درصدد رد این تشکیک و اثبات اربعین اول شده اند. این نوشتار ابتدا به دلایل منکران اربعین اول پرداخته و در ادامه به پاسخ گویی آن ها می پردازد، سپس با استفاده از قراین و شواهد دیگر، دیدگاه موافقان اربعین اول را تأیید می کند.
 1395/04/27
3
تحقیقی در باره اربعین حسینی
مسئله اربعین سید الشهداء(علیه السلام) و این که آیا خاندان آن حضرت پس از رهایی از اسارت یزید قصد عزیمت به کربلا را داشته و نیز آیا توانسته اند در آن روز به زیارت آن مضجع شریف نایل آیند و مرقد مطهرش را زیارت کنند، از جمله مسائلی است که از دیرباز صاحب نظران در باره آن اختلاف نظر داشته و هریک با استشهاد به ادله تاریخی برای اثبات یا نفی آن تلاش کرده اند
 1395/04/27

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات