ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


کیا قاتلان امام حسین علیہ السلام شیعہ تھے

چاپ
امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کا مذھب

باسمہ تعالیٰ

کیا قاتلان حسینـ شیعہ تھے؟

کربلا کا عظیم اور درد ناک واقعہ ایک ایسا موضوع ہے، جس پر شاید سب سے زیادہ کتابیں، مقالات، تحقیقات لکھی گئیں ہیں اور اس واقعہ سے متعلق مختلف موضوعات پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے، لیکن ان سب کاوشوں کے باوجود بھی بہت سے پہلو ایسے ہیں، جن پر محققانہ نظر کی ضرورت ہے۔ بالخصوص ان واقعات پر تحقیق بہت ضروری ہے کہ جس کو دشمنان اہل بیت٪ نے دانستہ مخدوش کردیا ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ تاریخ جو آج ہمارے سامنے ہے یا تو سلاطین کے اشارے پر یا ان کی خوشنودی کے لئے لکھی گئی اور حکومتیں ہمیشہ اہل بیت٪ کی مخالف رہی ہیں۔ چاہے وہ بنی امیہ کی حکومت ہو یا بنی عباس کی یا پھر ان کے بعد سلاطین کی حکومتیں۔ ہاں کچھ حکومتیں اس دوران شیعوں کی معرض وجود میں آئی مگر ایک محدود وقت اور مقام پر رہی جیسے آل بویہ یا فاطمیون کی حکومتیں؛ البتہ یہاں اختلاف ہے کہ یہ سلاطین دوازدہ امامی تھے یا زیدی مسلک کے پیرو کار؟ بہر حال حکومتیں ہمیشہ اہل بیت٪ کی مخالف رہی اور کوشش یہ رہی کہ اہل بیت٪ کے فضائل و مصائب لوگوں تک نہ پہنچ سکے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ جو کچھ لکھا گیا تھا یا کسی حد تک حد ذخیرہ تھا ان کو جلا کر خاکستر کردیا گیا یا ضائع ہوگئی۔

اور دور حاضر میں تو غیروں سے زیادہ اپنوں نے شیعیت کو نقصان پہونچایا ہے۔ کچھ روشن فکر افراد آئے اور مسلمات فضائل اہل بیت٪ کو بھی خدشہ ور بنادیا۔ کوئی کہتا ہے کہ اہل بیت٪ سے معجزات صادر نہیں ہوئے۔ کوئی کہتا ہے کہ علیـ، کعبہ میں پیدا ہوئے تو یہ فضیلت نہیں ہے۔ ان کے لئے دیوار کعبہ شق نہیں ہوئی بلکہ پشت دراوزہ بھی ایک دروازہ تھا، جس سے فاطمہ بن اسد داخل کعبہ ہوئیں۔ اموی حکمران عزت اسلام کے باعث تھے اس کے علاوہ شیعوں کی معتبر ترین کتابوں کو مشکوک بنانے کی سعی پیہم جاری ہے۔ یہ کتاب غالیوں نے لکھی ہے۔ یہ کتاب منسوب بہ فلاں بزرگ ہے، در اصل ان کی کتاب نہیں ہے۔ بزرگان مثلاً شیخ مفید، علامہ حلی، شیخ صدوق، سید مرتضیٰ، شریف رضی ... وغیرہم معصوم نہیں تھے۔ ان میں اکثر فقیہ تھے، اخباری تھے، اصولی تھے۔ تاریخ سے ان کا ربط بہت کم تھا۔ یہ لوگ مؤرخ نہیں تھے، تاریخ نگاری ان کا عارضی کام تھا اور جمع واقعات نہ تحقیق و تدبر۔

اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ یہ افرارد معصوم نہیں تھے۔ یقینا غیر معصوم تھے، مگر یہ لوگ نہایت درجہ کے مؤمن، متقی اور صاحبان ورع تھے۔ ان بزرگان کو مستقیماً یا غیر مستقیم تائیدات امامـ حاصل تھی۔ ان بزرگان سے کذب و جہل کا امکان (صرف اس لئے کہ ہمارے ائمہ٪ کے فضائل میں اضافہ ہوجائے) ممکن نہیں ہے۔ یہ لوگ ائمہ٪ کے حقیقی عارف تھے۔ علم عرفان کا کامل دعویٰ تو نہیں کیا جاسکتا، ہاں کافی حد تک عارفان ولایت و امامت تھے۔

اور یہ دعویٰ کیسے لوگ کردیتے ہیں کہ بزرگان نے بغیر تحقیق و تدبر کے صرف واقعات نقل کئے ہیں، جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے، انہیں بزرگان کی مرہون منت ہے۔ کل تک انہیں بزرگان کی کتابوں اور نظریات کی سہارے ہمارے علماء نے حق و حقانیت کو ثابت کیا ہے۔ بڑے بڑے مناظروں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہاں بعض مقامات پر کچھ مشکلات ہیں بھی تو ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم ان کی منطقی اور عقلی توجیح کریں نہ یہ کہ پوری کتاب کو مخدوش بنادیا جائے۔

اگر بالفرض محال، ہمارے بزرگان نے کذب و جہل یا خیانت سے کام لیا تھا تو کیا سب صد در صد ایک بات پر متفق تھے جبکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر غلط باتیں یا کذب و جہل دین میں رائج کیا جارہا ہو تو مستقیماً یا غیر مستقیم امامـ اس کا مداوا کرے اور اس کو روک دے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ امامـ کی طرف سے بجائے رد کے تائید میں توقیعات صادر ہوئی ہیں۔!

مورد بحث موضوع بھی انہیں موضوعات میں سے ایک ہے، جس کے بارے میں کہا گیا کہ در حقیقت یہ وہ لوگ تھے (قاتلان امام حسینـ) جن کی اکثریت اصل کوفہ سے تھی اور ان کوفہ والوں نے حضرت علیـ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور جمل و صفین اور نہروان جیسی جنگوں میں علیـ کے ہم رکاب تھے۔

اس کا مطلب ہے کہ یہ لوگ شیعہ تھے اور وہی اعتراض جو برادران اہل سنت کرتے ہیں، آج ہم اسی کا اعتراف کررہے ہیں۔

اس بحث میں ہماری کوشش ہے کہ ہم کوفہ کا مکمل جائزہ لیں اور اہل کوفہ کی نفسیات کا جائزہ لیں۔ کلام و خطبات امام حسینـ نیز امام سجادـ و جناب زینب٭ اور ام کلثوم٭ نے ان اہل کوفہ کو کس طرح یاد کیا ہے، کو قلم بند کریں گے، اس کے علاوہ شیعہ کی تعریف، شیعوں کی اقسام اور حقیقی شیعوں کی حقیقت اور نام کے ساتھ شیعوں کی حقیقت سامنے لائیں گے۔

لشکر یزید

سب سے پہلے ہم جس بحث کو قلم بند کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ لشکر یزید میں کون کون اور کہاں کے رہنے والے تھے ...؟ لہٰذا اگر سن اکسٹھ (٦١) ہجری میں دیکھا جائے تو مکہ، مدینہ، شام، بصرہ، کوفہ اور یمن اسلامی بڑے ملک تھے اور یہ بات بھی مؤرخین نے باصراحت لکھی ہے کہ واقعۂ کربلا میں مکہ اور مدینہ بے طرف رہا ہے نہ حسینـ کے ساتھ نہ یزید ملعون کی طرفداری۔ اگرچہ یہ قدم بھی درست نہیں تھا کہ امام برحق کا بھی ساتھ دینے سے گریز کررہے تھے۔ لہٰذا مؤرخین نے لکھا ہے کہ جب آپ مدینہ سے نکل رہے تھے تو افسوس کرنے والے زیادہ اور ہم سفر سوائے رشتہ داروں کے اور چند خاص اصحاب کے اور کوئی نہیں تھا۔

تاریخ تمدن اسلامی، ج٤، ص٦٤؛ پس از پنجاہ سال قیام حسینیـ، جعفر شہیدی، ص٩٨؛ تاریخ طبری، ج٦، ص٢٩٢٦۔

بصرہ

اہل بصرہ حضرت علیـ کی شہادت کے بعد آپس میں لڑے اور معاویہ نے اسی موقعیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اہم قبائل کے سرداروں کو خرید لیا۔ البتہ معاویہ کے مرنے کے بعد یزید کے خلاف آواز ضرور اٹھائی، مگر امامـ کا ساتھ بھی نہیں دیا، صرف دو قبیلہ نے آپ کی دعوت قبول کی مگر جب کربلا پہنچے تو امامـ شہید ہوچکے تھے۔

تاریخ تمدن اسلامی، ج٤، ص٦٤؛ پس از پنجاہ سال قیام حسینیـ، جعفر شہیدی، ص٩٨؛ تاریخ طبری، ج٦، ص٢٩٢٦۔

شام

شام کے بارے میں کچھ لکھنا بے سود ہے، اس لئے کہ خلیفۂ اول کے زمانہ میں ہی معاویہ کو یہاں کا والی بنایا گیا تھا اور آخر دم تک وہ والی شام تھا اور اس شہر کی اکثریت اموی حامیوں کی تھی اور سر سخت حامی ان کی گھٹیوں میں بغض علیـ گھول کر ان کو پلایا گیا تھا اور اسی طویل مدت میں معاویہ اتنا قوی ہوگیا تھا کہ مرکز خلافت بھی اس سے خوف کھاتا تھا۔

کوفہ

واقعۂ کربلا میں لشکر یزید کی اکثریت کوفہ سے تعلق رکھتی تھی۔ جیساکہ لکھا گیا کہ شامی تو اصل اساس تھے اس واقعہ کی، مگر فوج کے نام پر کربلا میں شامی بہت کم تھے، بلکہ نہ ہونے کے برابر تھے اور مکہ و مدینہ والے بے طرف رہے البتہ کوفیوں کی اکثریت فوج یزید میں شامل تھی۔ لہٰذا ہم کوفہ کی مکمل بررسی کریں گے۔

کوفہ کی آبادی سن ساٹھ اور اکسٹھ (٦٠ و ٦١) ہجری میں

سن سترہ (١٧) ہجری میں عمر ابن خطاب کے حکم سے سعد ابن ابی وقاص نے کوفہ کی فوجی چھاؤنی کی حیثیت سے تأسیس کیا اور عمر ابن خطاب کے ہی حکم سے ایک مسجد تأسیس کی گئی جس کی گنجائش چالیس ہزار لوگوں پر مشتمل تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس وقت کوفہ کی سنگ بنیاد رکھی گئی وہاں کی آبادی چالیس ہزار تھی اور پھر انہیں افواج کی اکثریت اپنے بیوی، بچوں کو بھی یہاں لے کر آئے۔ اس طرح یہاں کی آبادی چند برابر ہوگئی۔

تاریخ طبری، ج٣، ص١٤٥، بیروت؛ معجم البلدان، یاقوت حموی، بیروت، ج٤، ص٤٩١۔

اس کے علاوہ چونکہ کوفہ کی آب و ہوا نہر فرات کے کنارے ہونے کی وجہ سے کافی بہتر تھی، لہٰذا لوگوں نے شہر کوفہ کی طرف ہجرت کی اور دور دراز سے آ کر اس شہر میں بسنے لگے اور سن چھتیس (٣٦) ہجری میں حضرت علیـ نے مرکز خلافت مدینہ سے منقتل کرکے کوفہ کو مرکز بنایا اور جب سن سینتیس (٣٧) ہجری میں جنگ صفین کا معرکہ ہوا تو حضرت علیـ کی فوج کی تعداد پینسٹھ (٦٥) ہزار سے زیادہ تھی۔

تاریخ طبری، ج٤، ص٥٩۔

اور ایک قول کے مطابق تو امامـ کی فوج نوے (٩٠) ہزار افراد پر مشمل تھی۔

مروج الذہب، ج٢، ص٣٨٥، بیروت۔

اور جو لوگ جنگ میں شریک نہیں تھے یا جو لوگ شریک تھے، ان کے خانوادے کی تعداد اگر حساب کی جائے تو دو لاکھ سے زیادہ کوفہ کی آبادی فرض کرنی پڑے گی۔

سن پچاس (٥٠) ہجری میں جب معاویہ کی طرف سے زیاد بن ابیہ والی کوفہ ہوا تو اس نے شیعوں پر اتنے ظلم کئے کہ پچاس (٥٠) ہزار سے زیادہ شیعہ خراسان کی طرف ہجرت کرگئے۔

حیاة الامام الحسینـ، باقر شریف قرشی، قم، ج٢، ص١٧٨۔

اگر اس مذکورہ تعداد کو کوفہ سے نکال لیا جائے پھر بھی ڈیڑھ لاکھ کی آبادی کوفہ کی تھی۔ جبکہ سن پچاس (٥٠) ہجری سے لے کر سن ساٹھ (٦٠) تک آبادی میں اضافہ کا امکان تو ہے، کم ہونے کا امکان بہت کم ہے اور کوفہ میں جو لوگ رہ گئے تھے ان کی اکثریت شیعہ نہ تھی۔ اگر یہ لوگ بھی شیعہ ہوتے تو یقینا زیاد بن ابیہ کے ظلم کا شکار ہوتے مگر تاریخ خاموش ہے کہ ان لوگون پر کسی قسم کا ظلم ہوا ہو نیز یہ کہ یہاں مختلف قبائل کے افراد رہتے تھے اور رئیس قبیلہ جس کی حمایت کرتا تھا، قبیلہ والے بھی اسی کی حمایت کرتے تھے۔

سن ساٹھ (٦٠) ہجری میں کوفہ کی آبادی دو لاکھ فرض کی جائے تو بعید نہیں ہے۔ جن میں مرد و عورت اور بچے بھی شامل تھے۔

نتیجہ

امام حسینـ کو اہل کوفہ کی طرف سے جو خط لکھے گئے ان کی تعداد بارہ (١٢) ہزار تک ذکر کی جاتی ہے اور خط لکھنے والوں میں اکثر وہ تھے جو حقیقی شیعہ نہیں تھے۔ حقیقی شیعہ جو تھے وہ واقعۂ کربلا کے وقت یا زندان میں تھے یا شہید کردیئے گئے تھے یا امامـ کے ساتھ کربلا میں تھے۔ خطوط لکھنے والوں میں عمر ابن حجاج اور مثبت بن ربعی جیسے افراد بھی تھے جو بعد میں فوج یزید کے کربلا میں کمانڈر بھی تھے۔

الفتوح، ج٥، ص٥٤٥٠۔

بہر حال جو آبادی ہم نے کوفہ کی لکھی ہے اس کے مقابلے میں بارہ (١٢)ہزار خطوط کی حیثیت کیا ہے ...؟! یعنی اگر بالفرض محال ان خطوط کے لکھنے والون کو ہم شیعہ مان بھی لیں پھر بھی دو لاکھ کی آبادی میں بارہ (١٢) ہزار افراد کتنے فیصد ہوں گے؟ اور لشکر یزید کی کم سے کم تعداد کو مد نظر رکھیں تو بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ بارہ (١٢) اور تھے اور لشکر یزید میں شامل تیس (٣٠) ہزار اور تھے۔ اگرچہ خطوط لکھنے والوں کی بررسی ہم آئندہ کریں گے کہ ان میں کتنے شیعیان واقعی تھے اور کتنے فرضی؟۔

جناب مسلم کے ہاتھوں پر بیعت کرنے والوں کی تعداد اٹھارہ (١٨) ہزار سے چالیس (٤٠) ہزار تک اہل تاریخ نے لکھی ہے، البتہ یہاں ایک روایت امام محمد باقرـ سے ہے:

''جناب مسلم کی بیعت کرنے والوں کی تعداد بیس (٢٠) ہزار تھی۔''

بحار الانوار، ج٤٤، ص٣٣٧ و ٣٦٨۔

اگر اسی عدد کو قبول کرلیں تو ان میں سے کتنے لوگ جناب مسلم کی شہادت کے وقت ان کے ساتھ تھے ...؟ تاریخ تو بتاتی ہے کہ آخر میں جناب مسلم تنہا رہ گئے اور شہید کئے گئے۔ کیا واقعی چاہنے والوں کا کردار ایسا ہوتا ہے کہ مشکلات میں ساتھ چھوڑ کر چلے جائیں ...؟!

تاریخ طبری، ج٤، ص٢٧٧۔

خود نامہ نگاروں کے سلسلے میں امام حسینـ کے یہ جملہ:

''و ما کانت الی الا مکیدة لی و تقربا الی ابن معاویة۔''

انساب الاشراف، ج٣، ص١٨٥؛ الفتوح، ج٥، ص١٦٩۔

''جو خطوط مجھے لکھے گئے سوائے مجھے دھوکہ اور یزید ابن معاویہ کے تقرب کے کچھ نہیں تھا۔''

کا کیا مطلب ہے ...؟

اس کا مطلب یہ ہے کہ خطوط لکھنے والوں کی اکثریت امامـ کو دھوکہ دینا چاہ رہی تھی کہ آپ کوفہ آجائیں اور ہم یزید کو خبر کردیں اور آپ کو کوفہ میں ہی شہید کردیا جائے۔ ان کوفیوں نے امامـ کو اپنے امام کی طرح سمجھا تھا کہ امامـ کو کچھ خبر ہی نہیں ہے۔ امامـ نے جناب مسلم کو کوفہ صرف اس لئے روانہ کیا تھا تاکہ اتمام حجت ہوجائے ورنہ امامـ اہل کوفہ کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ اپنے اجداد کے ساتھ بے وفائی کی داستان امامـ سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے؟ اور جناب محمد حنفیہ نے بھی امامـ کو اس خطرہ سے آگاہ کیا تھا۔

کوفہ آباد کرنے والے، سن ساٹھ اور اکسٹھ (٦٠ و ٦١ ) ہجری

کوفہ میں رہنے والے کلی طور پر دو طرح کے لوگ تھے یا عرب تھے یا غیر عرب۔ اعراب جو یہاں رہتے تھے، وہ ان قبائل سے جو عمر ابن خطاب کے زمانہ میں آ کر یہاں بس گئے تھے اور یہ عرب دو بڑے قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے، ''قحطانی'' اور ''عدنانی'' کہ ان کو اس وقت ''یمانی'' اور ''نزاری'' کہا جاتا تھا۔

الکوفة فی قرن الاول، محمد حسین، ص٤٢۔

یمانی شروع میں تو اہل بیت٪ کے چاہنے والے تھے مگر معاویہ نے ان پر مختلف انداز سے کام کیا اور اکثر کو اپنا طرفدار بنالیا تھا۔ معاویہ کے لئے مشہور ہے کہ وہ اپنے حریفوں کو مختلف طریقہ سے رام کرتا تھا یا دھمکی کے ذریعہ یا قتل کے ذریعہ یا پھر مال کے ذریعہ حریفوں کو اپنا بناتا تھا۔

غیر عرب جو کوفہ میں آ کر بس گئے تھے، وہ ''موالی''، ''سریانی'' اور ''نبطی'' تھے۔

حیاة الامام الحسینـ، باقر شریف قرشی، ج٢، ص٤٣٨۔

موالی

موالی وہ لوگ تھے، جو عرب قبیلوں کے ساتھ ہم پیمان تھے اور یہ لوگ مختلف ملکوں کے باشندے تھے۔ کچھ ایرانی تھے، کچھ رومی تھے اور کچھ ترک۔ عرب مجموعی طور پر ان لوگوں کو ''عجم'' کہتے تھے اور یہ لوگ خود کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے تھے بلکہ جس قبیلہ کے ہم پیمان ہوتے تھے، انہیں کی اطاعت کرتے تھے۔ وہ جس کی حمایت کرتے تھے، یہ لوگ بھی انہیں کی حمایت کرتے تھے۔ البتہ عربوں کے مقابلے میں آبادی کے لحاظ سے یہ لوگ بہت تیزی سے رشد کررہے تھے۔ اسی لئے معاویہ نے زیاد بن ابیہ کو لکھا کہ ان کو متفرق کرو اور اس نے ان میں سے بعض کو ایران، بعض کو شام اور بعض کو کوفہ میں رکھا اور ان کو مال کے ذریعہ اپنا حامی بنائے رکھا تاکہ مخالفت نہ کرسکیں اور یہ لوگ واقعۂ کربلا میں لشکر یزید کے ہمراہ تھے۔

فتوح البلدان، بلاذری، ص٢٧٩۔

سریانی

یہ لوگ فتوحات اسلامی سے پہلے پہاڑوں اور دیر وغیرہ میں رہا کرتے تھے اور جب اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع ہونے لگا تو یہ لوگ اسلام لائے (در اصل یہ لوگ مسیحی تھے) اور اسلامی فوج میں شامل ہوگئے اور چونکہ فوج کا مرکز کوفہ تھا، لہٰذا یہ لوگ کوفہ آئے اور آ کر بس گئے۔

نبطی

بعض لوگوں نے ا نہیں عرب جانا ہے۔ اس لئے کہ یہ لوگ عراق کے اطراف میں رہتے تھے۔ جب کوفہ معرض وجود میں آیا تو یہ لوگ کوفہ آ کر بس گئے۔ ان کا پیشہ کھیتی کرنا تھا۔ ان لوگوں نے یہاں کی زمین کو کھیتی کے لئے آمادہ کیا اور غلہ جات یہاں کے رہنے والوں کو فراہم کرتے تھے۔

کوفہ کے رہنے والوں کے مذہب و عقائد، سن ساٹھ اور اکسٹھ (٦٠ و ٦١) ہجری

کوفہ میں رہنے والے مجموعی طور پر دو قسم کے تھے یا مسلمان تھے یا غیر مسلمان۔ غیر مسلمانوں میں اکثر عیسائی تھے، مگر عرب تھے اور قبیلۂ بنی تغلب سے تھے اور نجران کے عیسائی بھی کوفہ میں آ کر بس گئے تھے۔ نبطی اور یہودی جو عمر کے زمانہ میں جزیرة العرب سے بھگائے گئے تھے، کوفہ میں آ کر بس گئے۔ مجوسی بھی کوفہ میں رہتے تھے۔ البتہ اتنی بڑی تعداد میں نہیں تھے کہ ان سے حکومت کو خطرہ ہوتا اور یہ لوگ بعض اوقات مسلمانوں کے کام بھی آتے تھے۔ حکومت بھی چھوٹے چھوٹے (اور جنہیں اشراف انجام دینے میں عار محسوس کرتے تھے) کام ان سے لیتی تھی۔

مسلمانوں میں تین طرح کے افراد اس وقت کوفہ میں رہتے تھے:

١۔ شیعیان علیـ    ٢۔ اموی         ٣۔ خوارج

شیعوں کی بحث ہم آئندہ کریں گے البتہ یہاں صرف اشارہ کرکے یہ بتادوں کہ شیعوں میں دو قسم کے لوگ تھے۔ کچھ قبیلوں کے رئیس تھے اور کچھ عام لوگ تھے۔

رؤوسائے قبائل میں سلیمان بن صرد خزاعی، مسیب بن فرازی، مسلم بن عوسجہ، حبیب بن مظاہر وغیرہ تھے، یہ لوگ واقعی شیعہ اور جان نثاران علیـ تھے اور انہیں لوگوں نے واقعاً ضرورت امامـ کا احساس کرتے ہوئے امامـ کو دعوت دی تھی کہ وہ کوفہ تشریف لائیں مگر حالات دگرگوں ہوگئے اور یہ لوگ بھی کچھ نہ کرسکے۔

سوال: جب یہ لوگ واقعی جانثار تھے تو واقعۂ کربلا میں مسلم بن عوسجہ اور حبیب بن مظاہر کے علاوہ بزرگان کی غیر حاضری کیا معنی رکھتی ہے؟ نیز یہ کہ جناب مسلم کا ساتھ کیوں نہیں دیا۔؟

تاریخ طبری، ج٤، س٢٩٤۔

جواب: اس سوال کے جواب میں ہمارے علماء نے مختلف انداز سے جواب دیا کہ یہ لوگ کیوں کربلا میں حاضر نہ ہوسکے:

١۔ خود جناب مسلم نے ان افراد سے کہا تھا کہ آپ لوگ پراکندہ ہوجائیں اور اگر راستہ ملتا ہے تو امام حسینـ کی مدد کو چلے جائیں۔

الدوافع الذاتیہ لانصار الحسینـ، محمد علی عابدین، قم؛ مقتل الحسینـ، ص١٤٩؛ حیاة الامام الحسینـ، ج٣، ص٤٤١۔

٢۔ ان بزرگان کی اکثریت اس وقت زندان میں تھی۔ جس وقت ابن زیاد آیا ہے، اس نے پہلے جواسیس کے ذریعہ اطلاع حاصل کرلی تھی کہ کون کون جناب مسلم کے وفادار ہیں؟ اور اس کے بعد یا تو ان کو قید کردیا یا شہید کردیا گیا تھا۔

تنقیح المقال، ج٢، ص٦٢؛ ابصار العین، ص٤٣؛ المحبر، ص٣٠٣۔

٣۔ راستوں پر کی ناکہ بندی اتنی شدید تھی کہ کوفہ سے نکلنا تقریباً محال تھا۔ صرف کوفہ ہی نہیں بلکہ وہ تمام راستے جو کربلا کی طرف جاتے تھے، ان پر بھی سخت نگرانی ہورہی تھی اور عمر سعد نے کوفہ میں یہ اعلان کردیا تھا کہ جو بھی کوفہ سے نکلنے کی کوشش کرے گا، اس کا خون حدر ہے۔

انساب الاشراف، ج٣، ص١٧٨؛ اخبار الطوال، ص٢٥٤ و ٢٥٥۔

اس کے علاوہ خود نخیلہ میں ابن زیاد کا لشکر آمادہ ہورہا تھا کربلا کے لئے اور تاریخ کا بیان ہے کہ کوفہ میں ایک بھی بالغ مرد نہیں تھا مگر یہ کہ وہ نخیلہ میں ابن زیاد کے لشکر سے جا ملا۔

انساب الاشراف، ج٣، س١٧٩۔

٤۔ جو لوگ کوفہ سے کربلا پہونچے وہ یا تو مسلم کی شہادت سے پہلے کوفہ سے نکل چکے تھے یا لشکر مخالف کے ساتھ کربلا تک آئے اور امامـ سے جا ملے، جن کی تعداد مؤرخین نے تیس (٣٠) تک لکھی ہے۔

ترجمۂ الامام الحسینـ، ص٦٩؛ الامامة و السیاسة، ج٢، ص٧۔ الکامل فی التاریخ، ج٤، ص٧٣۔

٥۔ رؤوسائے قبائل تو مقید تھے لہٰذا عوام جو تابع رئیس تھے وہ مجبور ہو کر ابن زیاد کے لشکر میں شامل تو تھے مگر کوفہ سے کربلا جاتے ہوئے، راستہ ہی سے فرار ہوجاتے تھے۔ اس لئے کہ رئیس قبیلہ کا ارادہ ان کو نہیں معلوم تھا۔ نیز یہ کہ امام حسینـ سے لڑنے میں تأمل کررہے تھے۔ لہٰذا مؤرخین نے لکھا ہے کہ فوج کا کمانڈر ایک ہزار کا لشکر لے کر کوفہ سے نکلتا تھا اور جب کربلا پہونچتا تھا تو تین سو (٣٠٠) یا چار (٤٠٠) لوگ ہی بچتے تھے۔

انساب الاشراف، ج٣، ص١٧٩؛ اخبار الطوال، ص٢٥٤۔

کوفہ میں شیعوں کے علاوہ اکثریت امویوں کی تھی۔ اس لئے کہ تقریباً بیس (٢٠) سال سے کوفہ میں امویوں کی حکومت ہے اور اس مدت طویل میں انہوں نے کافی رشد پیدا کرلیا تھا اور ہم گذشتہ صفحات پر لکھ آئے ہیں کہ اس مدت میں کوفہ کے حاکموں بالخصوص زیاد بن ابیہ جیسے لوگوں نے شیعوں کا قتل عام کیا اور جو لوگ بچ گئے ان کو شہر بدر کردیا گیا اور یہ لوگ کوفہ چھوڑ کر خراسان کی طرف چلے گئے۔ ان ایام میں کوفہ کی حالت شام ہی جیسی تھی کہ جو لوگ حضرت علیـ کے زمانہ میں بچے تھے یا کچھ سال کے تھے وہ اب جوان ہوگئے تھے اور ان کی نشو و نما مخالفت خاندان علیـ میں ہورہی تھی۔ اس لئے کہ یہ وہ حالات تھے کہ کوفہ کی اکثریت مخالفان اہل بیت٪ تھی۔ حتی کہ صلح حسنـ کے بعد لوگ امام حسنـ کو ''مذل المؤمنین'' کہہ کر سلام کرتے تھے۔

تاریخ طبری، ج٤، ص١٣٢؛ تاریخ الادب العربی، وصف شرقی، مصر، ج٢، ص١٨٦؛ تجارب الامم، مسکویہ رازی، ج٢، س٥٧۔

جو قوم ایک دن پہلے امامـ کے ہم رکاب دشمن سے لڑ رہی ہوں اور دوسرے دن اتنی برگشتہ ہوجائے کہ وقت کے امام کو ''مذل المؤمنین'' کہہ رہی ہو، اس قوم سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔

شیعہ اور اموی کے علاوہ جو لوگ اس وقت کوفہ میں بانفوذ تھے، وہ خوارج تھے اور خوارج کے سلسلہ میں کیا لکھا جائے۔ ان کا کردار، روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ لوگ جنگ صفین کے بعد ہی سے حضرت علیـ کے خون کے پیاسے تھے۔ البتہ واقعۂ کربلا میں یہ لوگ بے طرف تھے، اس لئے کہ یہ لوگ حضرت علیـ کے دشمن تو تھے ہی مگر معاویہ کے قتل کے بھی در پے تھے اور کوفہ میں معاویہ اور حکومت اموی کے خلاف قیام کیا اور دوبارہ شکست سے دچار ہوئے۔ اس سے یہ بات تو تقریباً واضح ہوجاتی ہے کہ یزید ابن معاویہ کی حمایت بہر حال ان لوگوں نے نہیں کی۔

اب رہ گئے شیعیان کوفہ تو کربلا میں امامـ کے مقابلے میں کون تھا ...؟ اس بحث کو اجاگر کرنے کے لئے ہم شیعیان کوفہ کی بررسی کریں گے۔ نیز یہ کہ شیعہ کے لغوی اور اصطلاحی معنی کو بھی پیش کیا جائے گا اور اس وقت شیعہ کسے کہا جاتا تھا، اسے بھی واضح کریں گے۔

شیعہ

شیعہ کے لغوی معنی:

چاہنے والے، انصار یا اتباع کرنے والے کے ہیں۔

الفروق اللغویة، ابو ہلال عسکری، ص٣٠٧؛نہایہ، ابن اثیر، ج٢، ص٥٢٠؛ لسان العرب، ابن منظور، ج٨، ص١٨٨ و ١٨٩۔

اس معنی سے ہی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ چاہنے والا اپنے محبوب کو کیسے قتل کرسکتا ہے ؟ البتہ یہ لفظ عام ہے۔ اگر صرف شیعہ کہا جائے تو اسے علیـ کے چاہنے والے مراد لئے جاتے ہیں لیکن تاریخ میں شیعیان علیـ، شیعۂ عثمان، شیعۂ آل ابی سفیان اور شیعۂ یزید بھی مؤرخین نے لکھے ہیں اور لوگوں سوئے ظن کا اصل منبع بھی یہی ہے کہ کوفہ میں اس وقت مذکورہ چاروں قسم کے شیعہ موجود تھے اور لوگوں نے شیعہ کے ساتھ صفت کا استعمال نہیں کیا، مطلقاً استعمال کیا اور سوئے استفادہ کرنے والے یزید کے وکلاء نے اس واقعہ کو علیـ کے چاہنے والوں سے منسوب کردیا کہ کربلا میں حسینـ کے قاتل خود شیعہ تھے تاکہ اموی حکمرانوں کے دامن پر لگے اس دھبہ کو مٹانے کی سعی لاحاصل کی جائے۔ انہیں شاید یہ معلوم نہ تھا کہ تاریخ چاہے جس طرح لکھی جائے، حقیقت طشت از بام ہو کر رہے گی۔ اس لئے کہ مد مقابل الٰہی وعدہ ہے:

''تم میری راہ میں قربان ہوجاؤ میں تم کو زندۂ جاوید بنا دوں گا۔''

دوسری طرف امام سجادـ اور جناب زینب٭ نے بھی اس مسئلہ کو اجاگر کیا ہے اور سوئے استفادہ کرنے والوں کے مقاصد کو پہلے ہی سے نقش بر آب کردیا۔

شیعہ کے اصطلاحی معنی

اصطلاحی اعتبار سے یہ لفظ ان لوگوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جو علی ابن ابی طالب کو خلیفۂ بلا فصل مانتے ہیں اور آپ کی اولاد کو امام برحق مانتے ہیں۔ لہٰذا ابن خلدون کہتا ہے کہ شیعہ کے یہ اصطلاحی معنی فقہاء اور علمائے کلام کے نزدیک بھی یہی ہے یعنی علیـ اولاد علی٪ کو امام برحق اور خلیفۂ بلا فصل ماننا۔

تاریخ ابن خلدون، ج١، ص١٩٦۔

اگر ان مذکورہ تعریف کے پیش نظر کربلا میں امامـ کے مقابل اس قسم کے افراد تھے تو ہم قبول کرلیں گے کہ کربلا میں امام حسین اور آپ کے اصحاب کے قاتل شیعہ تھے، مگر ہم جب تاریخ دیکھتے ہین تو اس قسم کے افراد ایک بھی فوج یزید میں شامل نہیں ہے بلکہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس قسم کے افراد فوج یزید میں ہوں۔

اقسام شیعہ

واقعۂ کربلا کے رونما ہونے کے وقت کوفہ میں کس قسم کے شیعہ تھے یہ بھی تاریخ نے واضح طور پر بتایا ہے اور ان اقسام کی بررسی کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ کربلا میں کس قسم کے شیعہ امامـ کے مقابلے میں تھے۔

١۔ شیعۂ سیاسی     ٢۔ تشیع دینی      ٣۔ تشیع حبی      ٤۔ تشیع اعتقادی

شیعۂ سیاسی

یہ وہ لوگ تھے، جن کا اعتقاد یہ تھا کہ علیـ بعد از خلفائے ثلاثہ، افضل الناس تھے اور قتل عثمان کے بعد خلافت کے صحیح حقدار علیـ تھے۔ البتہ منصوص من اللہ ہونے کے عقیدے کو قبول نہیں کرتے تھے۔ اسی لئے حالات کی تبدیلی کے ساتھ یہ لوگ بھی اپنے عقائد بدلتے رہتے تھے اور نتیجةً رؤوسائے قبیلہ کے ساتھ ساتھ تمام قبیلہ کے افراد بھی اپنے عقیدے کو بدل دیتے تھے اور یہ لوگ قدرت و مال و منال کے گرویدہ تھے۔ جس طرف سے قدرت دیکھتے تھے، یا مال و منصب کی امید ہوتی تھی، اسی طرف چلے جاتے تھے۔ لہٰذا بہت سے ایسے افراد بھی تھے، جنہوں نے جناب مسلم کی کوفہ آمد کے وقت اور ان کی آمد سے پہلے حالات امام حسینـ کے حق میں محسوس کرکے امامـ کو خطوط لکھے اور حمایت کا اعلان کیا اور قسمیں کھائیں، ان لوگوں میں اہم ترین افراد جو عبید اللہ ابن زیاد کے کربلا آنے کے بعد حالات کو بدلتا دیکھ کر لشکر ابن زیاد میں شامل ہوگئے اور کربلا میں امامـ کے مقابلے میں آئے اور امامـ نے احتجاج کرتے ہوئے، ان لوگوں سے کہا:

''اے مثبت بن ربعی! اے حجار ابن ابجر! اے قیس بن اشعث! اے یزید ابن الحارث! کیا تم لوگوں نے مجھے کوفہ آنے کی دعوت نہیں دی تھی؟!''

اخبار الطوال، ص٢٢٩؛ تاریخ طبری، ج٤، ص٣٢٣۔

یہی وہ لوگ تھے جو کربلا میں امام حسینـ سے کہہ رہے تھے: (نعوذ باللہ من ذالک)

''اے کذاب پسر کذاب!''

یہ لوگ کیسے شیعہ تھے جو اپنے امامـ کو اس قسم کے جملوں سے نواز رہے تھے۔!

کامل ابن اثیر، ج٤، ص٦٧۔

بعض کہہ رہے تھے:

''اے حسینـ! تم کو جہنم کی بشارت ہو۔ اے حسینـ! تمہاری نماز قبول نہ ہوگی۔''

البدایة و النہایة، ج٨، ص١٨٣ سے ١٨٥۔

اس قسم کے جملے صرف امام حسینـ ہی کو نہیں سننے پڑے بلکہ امام علیـ جنگ جمل کے بعد مقتولین کی دل جوئی کو گئے تو عبد اللہ کی بیوی نے کھڑے ہو کر کہا تھا:

''اے دوستوں کے قاتل اور اہل جماعت کو پراکندہ کرنے والے! خدا تیرے بچوں کو یتیم کرے۔''

تاریخ طبری، حوادث سال ٣٦ ہجری۔

امام حسنـ کو اولاً صلح پر مجبور کیا، ایسے حالات پیدا کردیئے کہ امامـ نے یہ قدم اٹھایا پھر خود یہی لوگ امامـ کو ''السلام علیک یا مذل المؤمنین'' کہا کرتے تھے۔

جناب مسلم نے جب قصر میں پانی طلب کیا تو مسلم ابن عمر باہلی (جو امامـ کو خط بھی لکھنے والوں میں بھی شامل تھا) نے جواب دیا:

''اے مسلم! یہ پانی تو تم کو نہیں ملے گا۔ البتہ حمیم جہنم اور آتش دوزخ سے ضرور سیراب ہوگے۔''

قیام حسینـ، جعفر شہیدی، ص١٣٨۔

نتیجہ

کسی بھی انسان عاقل کے سامنے مذکورہ موارد کو رکھ کر سوال کریں کہ آیا یہ لوگ شیعہ تھے؟ انہیں لوگوں نے امامـ کو قتل کیا، شہید کیا؟! کیا یہی شیعہ ہیں۔؟

بالفرض محال اگر یہ شیعہ ہوتے بھی تو جس طرح ایک مسلمان انکار خدا اور رسولۖ اور مسلمات اسلام کے انکار کے بعد زمرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے اور کافر کہلاتا ہے، اسی طرح ہر وہ شخص جو شیعہ ہونے کے دعویٰ کرے اور مسلمات تشیع یعنی امامت الٰہی کی مخالفت کرے اور امام کو قتل کرے، زمرۂ شیعیت سے خود خارج ہوجاتا ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ محبت کا دم بھی بھرتے ہوں اور مخالفت اور قتل کے در پے بھی ہوں؟! کیا دوستی اور دشمنی ایک ہی وقت ایک شخص سے ممکن ہے؟!

تشیع دینی

یہ لوگ دینی معاملہ میں اہل بیت٪ کو مرجع مانتے تھے۔ خلافت و امامت کو منصوص من اللہ نہیں مانتے تھے اور سیاسی اعتبار سے اہل بیت٪ کو بالکل تسلیم نہیں کرتے تھے۔

تشیع حبی

وہ لوگ جو اہل سنت ہیں مگر اہل بیت٪ کو اور ان کے فضائل کو تسلیم کرتے ہیں۔ جیسے امام شافعی، ابن ابی الحدید یا ہماری اصطلاح میں بریلوی حضرات اور اہل سنت کے رجالی اصطلاح میں ان لوگوں کو شیعہ کہا گیا ہے اور رسول جعفریان نے ان لوگوں کو ''سنیہائے دوازدہ امامی'' کہا ہے۔

یہ وہ لوگ تھے، جنہوں نے واقعۂ کربلا میں کسی کا ساتھ نہیں دیا یا تو کوفہ سے فرار ہوگئے یا ساکت رہے اور بعد میں اظہار افسوس بھی کیا۔

یہ وہ لوگ ہیں جو متعدد روایات کے مطابق قاتلان حسینـ میں باواسطہ شامل ہیں۔ چونکہ احتجاجاً ان لوگوں نے آواز بلند نہیں کی اور وقت کے امام برحق کا ساتھ نہیں دیا فرار ہوگئے یا ساکت رہے۔

تشیع اعتقادی

یہ وہ لوگ تھے، جو منصب امامت کو منصوص من اللہ مانتے تھے اور منصب امامت کو خاندان اہل بیت٪ سے مخصوص جانتے تھے۔ علیـ کو خلیفۂ بلا فصل مانتے تھے۔ دینی اور سیاسی معاملات میں اہل بیت٪ کی طرف رجوع کرتے تھے۔

کوفہ میں سن ساٹھ (٦٠) ہجری میں اس عقیدے کے شیعہ بہت کم تھے، جیساکہ کہ ہم اس بات کو پہلے روشن کرچکے ہیں۔

اور جو لوگ تھے وہ یا تو ابن زیاد کی قید میں تھے یا جناب مسلم کے اصرار کی وجہ سے پراکندہ ہوگئے تھے اور امام حسینـ سے یا تو ملحق ہوگئے تھے یا اس راہ میں شہید کردیئے گئے تھے اور قیام توابین انہیں موارد پر واضح دلیل ہے۔

یہ لوگ وہ تھے، جنہوں نے واقعاً خلوص دل کے ساتھ امام حسینـ کو خطوط لکھے تھے اور آخر وقت تک بنی امیہ کی مخالفت اور امام حسینـ کی حمایت کی۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے کہا تھا:

''مولا! آپ کی اطاعت و ہم رکابی میں ایک مرتبہ کیا ستر (٧٠) مرتبہ مرنا گوارا ہے۔''

شیعیان معاویہ اور یزید

پہلے یہ لفط لغوی اعتبار سے زیادہ استعمال ہوتا تھا لہٰذا ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ ابی سفیان اور یزید کے ساتھ اور ان کے ماننے والوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے:

''و یحکم یا شیعة آل ابی سفیان ... الٰی آخرہ۔''

الفتوح، ج٥، ص٨٩، مقتل خوازمی، ج٢، ص٣٨؛ لہوف، ص٤٥۔

امامـ یزیدی سپاہ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں:

''اے شیعیان آل ابی سفیان!۔''

امامـ کے اس جملے نے شیعیان علیـ کو ان شیعوں سے الگ کردیا اور در حقیقت قاتلان حسینـ یہی سفیان زادے ہیں نہ شیعیان علی ابن ابی طالب۔

عبد اللہ ابن مسلم حضرمی جو کہ اموی پیروکار تھا، جناب مسلم کے کوفہ آنے کے بعد یزید کو اس طرح خط لکھتا ہے:

''لعبد اللہ یزید ابن معاویة، امیر المؤمنین من شیعتہ من اہل الکوفة ... الٰی آخرہ۔''

الفتوح، ج٥، ص٣٦۔

اس جگہ عبد اللہ خود کو یزید کا شیعہ بتا رہا ہے جو کہ اس بات پر بین دلیل ہے کہ کوفہ میں کئی قسم کے شیعہ تھے اور کربلا میں قاتلان حسینـ اس قسم کے شیعہ تھے نہ شیعیان واقعی علی ابن ابی طالب۔

عمر سعد نے عبید اللہ ابن زیاد کو ایک خط میں لکھا:

''اما بعد فان شیعتی من اہل الکوفة کتبوا ... الی۔''

الفتوح، ج٥، ص٣٦۔

یہاں پر عمر سعد اپنے شیعوں کا تذکرہ کررہا ہے جو اہل کوفہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

شیعیان ابو سفیان، یزید اور عمر سعد یہی وہ لوگ ہیں، جنہوں نے کربلا میں امام حسینـ کو قتل کیا اور سعی لاحاصل کی کہ اس سیاہ دھبہ کو اپنے دامن سے صاف کرکے شیعیان علیـ کے دامن پر لگا دیا جائے مگر تاریخ نے ان کی اس خیانت کو بھی برملا کردیا۔ آج اگر کوئی ان سب شواہد کے باوجود اس قسم کی تہمت شیعوں پر لگاتا ہے تو یقینا اس کی اصل یزیدیوں کی طرف پلٹی ہے۔

یہ لوگ اہل طمع تھے اور ان کا ہدف مال غنیمت تھا۔ چاہے جدھر سے ملے، حتی قتل حسینـ کے بعد ہی اور خود کو شیعہ بھی کہہ رہے تھے۔ اظہار افسوس بھی کررہے تھے اور ان کے بعد اموی دستر خوان کے خائن مؤرخین اور بالخصوص آج کے ناصبی اس بات پر مصر ہں کہ تاریخ کے ان حقائق کو جھٹلا کر دامن یزید کو پاک و صاف کردیں مگر بعض ایسے شواہد ہیں، جن کا انکار سورج و چاند کے انکار سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ مثلاً امام حسینـ جب کربلا میں آئے تو کئی مرتبہ لشکر یزید سے مخاطب ہو کر خطبہ دیا اور انہیں خطبوں سے ایک خطبہ میں آپ نے یزیدیوں کو مخاطب کرکے سوال کیا:

''اے لوگو! مجھے کیوں قتل کرتے ہو؟ میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ کیا حلال خدا کو حرام اور حرام خدا کو حلال کردیا ہے؟''

تو جواب ملا:

''اے حسینـ! ہم کو تم سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ ہم تم کو تمہارے باپ کی دشمنی کی وجہ سے قتل کررہے ہیں۔''

ینابیع المؤدہ، ص٣٤٦۔

قارئین محترم! اس طویل بحث میں ہم یہ ثابت کررہے ہیں کہ شیعہ جو (علمائے فریقین کے نزدیک) علیـ کو چاہنے والے ہوں جو علیـ کو خلیفۂ بلا فصل اور خلفاء سے از ہر لحاظ برتر و بالا مانتے ہیں۔ یعنی علیـ کے چاہنے والوں کو در حقیقت اصطلاح علمائے لغت کے نزدیک شیعہ کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے امام حسینـ کے جواب میں خود کو شیعۂ علیـ سے جدا کرلیا اور ثابت کردیا کہ ہم تو علیـ سے بغض رکھنے والے ہیں اور بغض علیـ رکھنے والے کو نہ کل کسی نے شیعہ کہا تھا اور نہ آج کوئی ان کو شیعہ کہہ سکتا ہے اور یہی بات تو یزید نے کہی تھی:

''آج اگر شہدائے بدر ہوتے تو مجھے داد و تحسین سے نوازتے کہ ہم نے آل ابی طالب٪ سے اپنے بزرگوں کا بدلہ لے لیا ہے۔''

قمقام زخار، ص٥٦١۔

کوفہ میں جناب زینب٭، جناب ام کلثوم٭ اور امام سجادـ کے خطبوں نے بھی اہل کوفہ کے ایمان و عقیدہ کو واضح طور پر بیان کیا ہے اور جن لفظوں سے اہل کوفہ کو یاد کیا ہے وہ ان کے ایمان و عقیدے کے لئے کافی ہے۔ امام سجادـ فرماتے ہیں:

''میرا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمہارے لئے۔ میں جو کچھ کررہا ہوں، اس سے تم بیزار ہو اور تم لوگ جو کچھ کررہے ہو، اس سے میں بیزار ہوں۔''

ایک دوسرے مقام ر جب آپ کے خطبہ کے بعد اہل کوفہ نے آپ سے کہا کہ ہم آمادہ ہیں تاکہ آپ کے بابا کے خون کا بدلہ لیں تو آپ نے فرمایا:

''اے بے وفائی کرنے والو! دھوکہ دینے والو! میں تم لوگوں پر بھروسہ نہیں کرسکتا اس لئے کہ تم وہی کروگے جو میرے بابا کے ساتھ کیا ہے۔''

بحار الانوار، ج٤٥، ص١١٢؛ الاحتجاج، ج٢، ص١١٧۔

جناب عقیلہ بنی ہاشم٭ کے خطبے میں جن الفاظ کا استعمال ہوا ہے وہ اہل کوفہ کے ایمان و عقیدہ کو آشکار کرنے کے لئے کافی ہے:

''یا اہل الختل و الغدر و الخذل!''

یہی نہیں بلکہ کوفہ میں جو آپنے خطبہ دیا ہے، تقریباً پورا خطبہ اہل کوفہ کی سرزنش اور ان کے ایمان و عقیدے کو آشکار کررہا ہے۔

الاحتجاج، ج٢، ص١٠٩۔

نتیجہ

امام حسینـ کے کلمات جو کوفہ اور کوفیوں کے سلسلہ میں نقل کئے گئے یا امام سجادـ اور جناب زینب٭ و ام کلثوم٭ کے خطبات نیز کوفہ کی مذہبی حالت اور اہل کوفہ کے کردار کو بیان کرنے کے بعد یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ کون قاتل ہے اور کون ظالم ...؟ اب بھی کوئی عقلمند یہ کہے گا کہ امام حسینـ کو شیعوں نے قتل کیا ہے۔ تاریخ پر اگر باریک بینی سے نظر کی جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خود وکلائے یزید کو بھی معلوم ہے کہ قاتل کون ہے؟ مگر اپنے سر سے الزام کو ہٹانے اور یزید کو اس معاملے سے بری کرنے کے لئے سعی لاحاصل کی گئی اور سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حقیقت کچھ بھی نہیں ہے۔



منابع: الاحتجاج ،بحارالانوار ، ینابیع المودۃ
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها قاتلان ،امام حسین ،کربلا،کوفہ

مطالب مشابه


1
اربعین عطش‎‎های پرپر
کاروان خاطرات، بازگشته است از جایی که چهل روز گذشته است از ماتم‎های سرخ، از عطش‎های پرپر شده است
 1395/04/27
2
پژوهشی در اربعین حسینی(علیه السلام)
محسن رنجبر. حضور اهل بیت(علیهم السلام) در اولین اربعین شهادت امام حسین(علیه السلام) بر سر مزار آن حضرت در کربلا از مسائلی است که در قرون اخیر برخی محققان شیعه درباره آن تشکیک کرده اند. در مقابل، برخی دیگر از اندیشمندان، درصدد رد این تشکیک و اثبات اربعین اول شده اند. این نوشتار ابتدا به دلایل منکران اربعین اول پرداخته و در ادامه به پاسخ گویی آن ها می پردازد، سپس با استفاده از قراین و شواهد دیگر، دیدگاه موافقان اربعین اول را تأیید می کند.
 1395/04/27
3
تحقیقی در باره اربعین حسینی
مسئله اربعین سید الشهداء(علیه السلام) و این که آیا خاندان آن حضرت پس از رهایی از اسارت یزید قصد عزیمت به کربلا را داشته و نیز آیا توانسته اند در آن روز به زیارت آن مضجع شریف نایل آیند و مرقد مطهرش را زیارت کنند، از جمله مسائلی است که از دیرباز صاحب نظران در باره آن اختلاف نظر داشته و هریک با استشهاد به ادله تاریخی برای اثبات یا نفی آن تلاش کرده اند
 1395/04/27

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات