ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 کلام بزرگان


مہندر سنگھ بیدی امام حسین علیہ السلام کے بارے میں کہتے ہیں

چاپ

میں اپنی معروضات کا اختتام ایک ممتاز سکھ شاعر چ کی ایک مسدس کے چند اشعار پر کرنا چاہتا ہوں۔ مہندر سنگھ بیدی کہتے ہیں:

گلشن صدق و صفا کا لالۂ رنگیں حسینؓ

شمع عالم‘ مشعلِ دنیا‘ چراغ دیں حسینؓ

سر سے پا تک سرخی افسانۂ خونیں حسینؓ

جس پہ شاہوں کی خوشی قربان وہ غمگیں حسینؓ

مطلع نور مہ و پرویں ہے پیشانی تری

باج لیتی ہے ہر اک مذہب سے قربانی تری

جادۂ عالم میں ہے رہبر ترا نقش قدم

سایۂ دامن ہے تیرا پرورش گاہ ارم

بادۂ ہستی کا ہستی سے تیری ہے کیف و کم

اٹھ نہیں سکتا تیرے آگے سرِ لوح و قلم

تو نے بخشی ہے وہ رفعت ایک مشت خاک کو

جو بایں سرکردگی حاصل نہیں افلاک کو

بارشِ رحمت کا مژدہ‘ باب حکمت کی کلید

روز روشن کی بشارت‘ صبح رنگیں کی نوید

ہر نظامِ کہنہ کو پیغام آئین جدید

اے کہ ہے تیری شہادت اصل میں مرگ یزید

تیری مظلومی نے ظالم کو کیا یوں بے نشاں

ڈھونڈتا پھرتا ہے اس کی ہڈیوں کو آسماں


منابع:   (بشکریہ: سہ ماہی ’’پیغام آشنا‘‘شمارہ: اکتوبر تا دسمبر ۲۰۰۶ء) (مضمون نگار اسسٹنٹ ریجنل ڈائریکٹر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سکردو۔ بلتستان)
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات